پاکستان آج اپنا 78واں یومِ آزادی غیر معمولی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منا رہا ہے، جو حالیہ معرکۂ حق میں بھارت کے خلاف آپریشن بنیان المرسوس کے تحت حاصل کی گئی شاندار فوجی کامیابی سے مزید بڑھ گیا ہے۔
یومِ آزادی کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ ملک بھر کی مساجد میں پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ پر مرکزی پرچم کشائی کی تقریب کی قیادت کی، جہاں انہوں نے بانیانِ پاکستان، شہداء اور مسلح افواج کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر شکرپڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں شاندار دفاعی نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں ٹینک، توپ خانہ، راکٹ لانچر، ریڈارز، بکتر بند گاڑیاں اور وہ جنگی طیارے پیش کیے گئے جنہوں نے معرکۂ حق میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کا شاندار فلائی پاسٹ، پیرا جمپنگ مظاہرے اور فوجی بینڈ کی پرفارمنس بھی شامل تھی۔
ملک بھر میں سڑکیں، بازار اور سرکاری عمارات سبز ہلالی پرچموں، جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے سجی ہوئی ہیں۔ گلی محلوں میں فلیگ، کیپس اور سبز و سفید لباس بیچنے والے اسٹالز لگے ہیں جبکہ گاڑیوں اور گھروں کی چھتوں پر قومی پرچم لہرا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ثقافتی اداروں کے تعاون سے صوبائی روایتی رقص، آرٹ نمائشیں، موسیقی کی محفلیں اور بچوں کے لیے مختلف مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ لوک ورثہ میں سب سے بڑا یومِ آزادی فیسٹیول جاری ہے، جس میں ملی نغموں کا مقابلہ، آزادی کنسرٹ، دستکاری ورکشاپس، لوک تھیٹر اور معرکۂ حق کو خراجِ تحسین پیش کرنے والی تصویری و پینٹنگ نمائش شامل ہے۔ فیسٹیول میں علاقائی کھانوں کے اسٹالز، خریداری کے مواقع، بچوں کے کھیل کے مقامات اور عوام کے لیے مفت داخلہ فراہم کیا گیا ہے۔
کشمیر کے دونوں اطراف کے عوام یومِ آزادی اور معرکۂ حق کی فتح تجدید عہد کے ساتھ منا رہے ہیں، یہ عہد کرتے ہوئے کہ پاکستان ان کی “آخری منزل” ہے اور وہ اس کی سلامتی اور اتحاد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ملک کے بڑے شہروں میں پرامن تقریبات کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
