کراچی – 14 اگست 2025:
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کراچی میں اپنے مشہور لقب "شہباز اسپیڈ” کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی، بلکہ شہر کو "شہباز سلو” کا سامنا ہے، جبکہ لاہور میں ترقیاتی رفتار تیز ہے۔
بدھ کو حب کینال کے نئے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا:
"ہم نے شہباز اسپیڈ کی امید کی تھی مگر کراچی کو شہباز سلو ملا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ لاہور میں شہباز اسپیڈ ہو اور کراچی میں شہباز سلو۔”
انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ کراچی سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں اور شہر کے دیرینہ پانی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
سیاسی پس منظر
بلاول کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ان کی جماعت پی ایم ایل (ن) کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت کی مرکزی حلیف ہے۔ سپریم کورٹ کے ریزرو سیٹس سے متعلق فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اہم اتحادی رہے گی۔
حب کینال کی افتتاحی تقریب
بلاول نے بتایا کہ نئی حب کینال سے کراچی کو 100 ملین گیلن یومیہ (ایم جی ڈی) اضافی پانی فراہم کیا جائے گا، جس سے ضلع وسطی، ضلع شرقی اور کیماڑی کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ لیاری کو مزید پانی فراہم کرنے کے لیے پی سی ون منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جبکہ پرانی حب کینال کی مرمت بھی جاری ہے۔ بلاول نے مزید پانی کے کوٹے کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
مقامی حکومت اور ترقیاتی اقدامات
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ پہلی بار کراچی اور حیدرآباد کے بلدیاتی نظام عوام کی خدمت کر رہے ہیں، نفرت پھیلانے کے بجائے ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔
"ہمارے منتخب میئر صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، اور یہ ہم آہنگی عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔”
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے اس منصوبے کو بھی سراہا جس کے تحت سمندر کے پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ لگایا جائے گا۔
عوامی رجحان
بلاول نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے عوام نے نفرت کی سیاست کو مسترد کر کے خدمت اور ترقی پر مبنی قیادت کو منتخب کیا ہے، چاہے وہ بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات۔
