کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن کے ایک اہم تعمیراتی معاہدے کو سندھ حکومت نے منسوخ کر دیا ہے، اور صوبائی وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کے مطابق اب یہ کام ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ ایوارڈ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یونیورسٹی روڈ والے حصے، خاص طور پر لاٹ 2، پر کام ایک بار پھر شدید سست روی کا شکار بتایا جا رہا ہے اور ٹھیکیدار کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ریڈ لائن منصوبہ کراچی کے بڑے شہری ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ سندھ حکومت کی سرکاری معلومات کے مطابق یہ منصوبہ مکمل ہونے پر تقریباً 15 لاکھ افراد کو براہِ راست فائدہ دے گا، جبکہ روزانہ متوقع مسافروں کی تعداد 3 لاکھ 50 ہزار کے قریب ہے۔ سرکاری بیان میں اسے زیرو ایمیشن، یعنی کم آلودگی والا، ماس ٹرانزٹ نظام قرار دیا گیا ہے۔
حالیہ تنازع بنیادی طور پر اس حصے سے جڑا دکھائی دیتا ہے جو موسمیات سے نمائش تک پھیلا ہوا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اسی حصے میں ماضی میں بھی مالی اور انتظامی اختلافات کی وجہ سے کام رکا، ادائیگیوں کے معاملے عدالت تک گئے، اور بعد میں رفتار بحال ہونے کے باوجود پیش رفت پھر کمزور پڑ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اب معاہدہ ختم کر کے نیا بندوبست کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
شرجیل میمن اس سے پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ ریڈ لائن منصوبہ مسلسل مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ فروری 2026 کی رپورٹوں میں ان کے حوالے سے کہا گیا کہ منصوبہ مکمل ہونے میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یونیورسٹی روڈ اور اطراف کی سڑکوں پر عوام کو درپیش مسائل کم کرنے کے لیے حکومت نے متعلقہ کام تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
منصوبے کی اہمیت صرف اس کی لمبائی یا متوقع مسافروں کی تعداد تک محدود نہیں۔ ٹرانس کراچی کے مطابق یہ 503 ملین ڈالر کا منصوبہ ہے اور اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری بھی اسی ادارے کے پاس ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبہ جاتی ریکارڈ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بین الاقوامی معاونت اور نگرانی کے تحت چلنے والا بڑا انفرااسٹرکچر پروگرام ہے۔
عملی طور پر دیکھا جائے تو کراچی کے شہریوں کے لیے یہ خبر ایک اور انتظامی فیصلے سے بڑھ کر ہے۔ ریڈ لائن کے نام پر برسوں سے جاری کھدائی، ٹریفک دباؤ، متبادل راستوں کی خراب حالت اور تاخیر نے اس منصوبے کو عوامی بے چینی کی علامت بنا دیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہنگامی بنیادوں پر نیا ٹھیکہ دینے سے واقعی کام تیز ہوگا، یا شہر کو ایک اور مرحلہ وار تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دستیاب رپورٹس اتنا ضرور بتاتی ہیں کہ حکومت پر دباؤ بڑھ چکا ہے اور موجودہ رفتار سیاسی طور پر بھی قابلِ دفاع نہیں رہی۔
