پنجاب کے محکمہ تعلیم نے مختلف اضلاع میں بغیر رجسٹریشن کے چلنے والی نجی اکیڈمیوں کے خلاف اچانک کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور درجنوں اکیڈمیوں کو سیل کر دیا گیا ہے جو کسی بھی سرکاری منظوری کے بغیر کام کر رہی تھیں۔
لاہور، پاکپتن اور دیگر علاقوں میں کیے گئے معائنے کے دوران 70 سے زائد غیر قانونی اکیڈمیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو کم از کم قانونی اور حفاظتی معیار پر پورا نہیں اُترتیں۔ ان میں سے زیادہ تر یا تو مناسب طور پر رجسٹرڈ نہیں تھیں، یا ان کے پاس تربیت یافتہ عملہ، سی سی ٹی وی کیمرے، اور ایمرجنسی اخراج جیسے ضروری انتظامات موجود نہیں تھے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ کئی مراکز کو موقع پر ہی بند کر دیا گیا، جبکہ دیگر کو حتمی نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ بہتری لائیں ورنہ بند کر دیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طلبا کی حفاظت اور نجی تعلیمی شعبے کو ضابطے میں لانے کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔
یہ کارروائی اس بڑھتی ہوئی عوامی تشویش کا حصہ ہے جو نجی اداروں کی بے قاعدہ سرگرمیوں کے حوالے سے سامنے آ رہی ہے، جہاں بھاری فیسیں وصول کی جا رہی ہیں مگر نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں۔ اس قسم کے مسائل پہلے لاہور سمیت دیگر شہروں میں چھوٹے پیمانے پر اقدامات کے دوران اجاگر کیے جا چکے ہیں، اسی لیے اس مرتبہ صوبائی سطح پر ایک وسیع مہم شروع کی گئی ہے۔
حکومت نے دیگر غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی دستاویزات مکمل کریں اور مطلوبہ حفاظتی معیار پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ آئندہ ہفتوں میں ضلع بھر میں مزید چھاپے مارے جائیں گے۔
