پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ طلبہ کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول یقینی بنانے کے لیے انسدادِ ہراسانی (Anti-Harassment) کمیٹیاں قائم کریں۔
یہ ہدایت اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (SED) کی جانب سے جمعرات کو جاری کی گئی، جو کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے عالمی یومِ دختر کے موقع پر دی گئی ہدایات کے بعد جاری ہوئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ کمیٹیاں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 کے تحت خفیہ اور مؤثر نظام فراہم کریں گی تاکہ جنسی ہراسانی سے متعلق شکایات کو منصفانہ طور پر نمٹایا جا سکے۔
ہر پرائمری، ایلیمینٹری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکول میں یہ کمیٹی ادارے کے سربراہ کی زیرِ صدارت قائم کی جائے گی، جس میں کم از کم تین اساتذہ شامل ہوں گے اور ان میں خواتین کی نمائندگی لازمی ہوگی۔
کمیٹیوں کا کام شکایات موصول کرنا، نجی طور پر تحقیقات کرنا، شکایت کنندہ کے تحفظ کو یقینی بنانا، منصفانہ انکوائری کرنا، ریکارڈ برقرار رکھنا اور باقاعدہ رپورٹس ضلعی تعلیمی حکام (DEAs) کو جمع کرانا ہوگا۔
