لاہور: پنجاب یونیورسٹی نے جمعہ، 10 اکتوبر 2025 کو حکومتی ہدایات کے بعد غیر متوقع تعطیل کا اعلان کیا ہے، جو کہ مذہبی سیاسی جماعت کے زیرِ اہتمام جلسے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نوٹس کے مطابق تمام تعلیمی اور انتظامی سرگرمیاں صبح 11 بجے سے معطل کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا، جب سیکیورٹی اداروں نے صوبائی دارالحکومت میں ممکنہ بدامنی کی وارننگ دی تھی۔
صوبہ پنجاب بھر میں سیکیورٹی شدید طور پر سخت کر دی گئی ہے اور لاہور–اسلام آباد موٹروے کے کئی راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب رات کے دوران پولیس اور جماعت کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جماعت کے رہنما کو اس کے ہیڈکوارٹر میں چھاپے کے دوران گرفتار کرنے کی کوشش کی۔
اس آپریشن کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، اور مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھر اور لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا، جس میں کم از کم تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام نے آنسو گیس کا استعمال کر کے ہجوم کو منتشر کیا تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
اس سے قبل، مذکورہ جماعت نے جمعہ کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے باہر بڑے پیمانے پر اسرائیل مخالف مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد حکام نے پورے پنجاب میں سیکیورٹی سخت کرنے کے ساتھ تعلیمی اداروں کو وقتی طور پر بند کرنے کی ہدایت دی۔
یونیورسٹی مزید نوٹس تک بند رہے گی، اور سیکیورٹی صورتحال مستحکم ہونے کے بعد نئی اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔
