بیجنگ: چین نے حال ہی میں تیان آن من اسکوائر میں ایک عظیم فوجی پریڈ کے ذریعے اپنی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا، جس نے عالمی رہنماؤں میں نئی تشویش کو جنم دیا اور جغرافیائی سیاست میں موجود خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔
یہ تقریب جاپان کی دوسری جنگِ عظیم میں شکست کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں 50 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ صدر شی جن پنگ نے پریڈ کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ’’انسانیت ایک بار پھر امن اور جنگ، مکالمے اور محاذ آرائی کے درمیان انتخاب کے دوراہے پر کھڑی ہے۔‘‘
پریڈ میں ایٹمی صلاحیت کے حامل میزائل، سپرسونک ہتھیار، ٹینک، بحری ڈرونز اور نئی فوجی ٹیکنالوجی کی نمائش کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ براہِ راست مغرب کے لیے ایک پیغام تھا کہ چین اپنی دفاعی صلاحیتوں میں کس حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔
سب سے زیادہ توجہ اس بات نے حاصل کی کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان صدر شی کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ تینوں آمرانہ طاقتوں کی یہ نادر یکجہتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن کی حالیہ الاسکا ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ ٹرمپ نے بعد ازاں ’ٹروتھ سوشل‘ پر شی، پیوٹن اور کم کو ’’یومِ جشن کی مبارکباد‘‘ دی، جسے روسی حکومت نے ’’طنزیہ‘‘ قرار دیا۔
دنیا بھر میں اس پریڈ پر ردعمل ملا جلا رہا۔ مغربی ممالک نے چین کی بڑھتی جارحیت پر تشویش کا اظہار کیا، خصوصاً اس وقت جب امریکی انٹیلی جنس کے مطابق صدر شی نے 2027 تک تائیوان کے خلاف ممکنہ اقدام کی تیاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔
تائیوان میں عوامی رائے منقسم رہی۔ کچھ شہریوں نے پریڈ کو ’’شاندار‘‘ اور فوج کو ’’شکریہ‘‘ کہہ کر سراہا، جبکہ صدر لائی چنگ-تے نے تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’تائیوان کے عوام امن کو عزیز رکھتے ہیں، اور ہم امن کو بندوق کے دہانے سے نہیں مناتے۔‘‘
دوسری جانب چین کے شہریوں نے سوشل میڈیا پر فخر کا اظہار کیا۔ ایک ویبو صارف نے لکھا: ’’میں شکر گزار ہوں کہ ہمارے ملک نے ہمیں اتنا محفوظ محسوس کروایا۔‘‘یہ پریڈ، جو 2019 کے بعد پہلی بار منعقد ہوئی، نہ صرف ماضی کی یادگار تھی بلکہ مستقبل کی طاقت کا مظاہرہ بھی دنیا کو یہ یاد دلانے کے لیے کہ بیجنگ بین الاقوامی سیاست کو تشکیل دینے میں بڑھتی ہوئی حیثیت رکھتا ہے۔
