کراچی: محکمہ برائے بااختیار بنانےِ معذور افراد سندھ نے ایک خاتون اُستاد کو اس وقت ملازمت سے برطرف کر دیا جب ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں اُسے کراچی کے گلشنِ اقبال کے ایک اسکول میں ذہنی معذور بچے کو تھپڑ مارتے اور اُس کا کان کھینچتے دیکھا گیا۔
یہ واقعہ 26 ستمبر 2025 کو پیش آیا اور ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔ واقعے کے بعد 2 اکتوبر 2025 کو محکمہ برائے بااختیار بنانےِ معذور افراد سندھ کے ایک وکیل کی جانب سے سیکشن 2018 کے تحت مقدمہ درج کرایا گیا۔
پولیس کے مطابق، ملزمہ اُستاد صفیہ ناز کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔ اسکول انتظامیہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ صفیہ ناز گزشتہ آٹھ سال سے ادارے میں خدمات انجام دے رہی تھیں اور واقعہ سامنے آتے ہی اُسے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
اپنے بیان میں صفیہ ناز نے مؤقف اختیار کیا کہ بچے نے اُس کے ہاتھ پر کاٹا، جس کے ردعمل میں وہ مشتعل ہو گئی اور اُسے تھپڑ مار دیا۔ اسکول انتظامیہ نے کہا کہ اُستاد کمر درد اور بیماری کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھی، تاہم ایسے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
محکمہ بااختیار بنانےِ معذور افراد سندھ کے حکام کا کہنا ہے کہ محکمانہ کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ آئندہ معذور طلبہ کی حفاظت اور فلاح کے لیے تمام تعلیمی اداروں میں سخت اقدامات کیے جائیں۔
