کراچی، 6 اگست: مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سینئر رہنما مولانا رجب علی بنگش کے بیٹے، علی وارث بنگش، پیر کی شب گلستانِ جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ میں ہونے والے مبینہ فرقہ وارانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ فائرنگ کے واقعے میں ان کے ہمراہ موجود سید مظہر عباس بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔
عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق، علی وارث اپنے دوستوں کے ہمراہ بیٹری کی ایک دکان کے باہر بیٹھے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ واقعے میں پانچ افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم علی وارث اور مظہر عباس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں موٹر سائیکل سوار دو ملزمان ملوث تھے، تاہم بعض غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ایک کار کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
منگل کے روز علی وارث اور مظہر عباس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اہل علاقہ، مذہبی و سیاسی شخصیات اور عزیز و اقارب نے شرکت کی۔
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما علامہ صادق جعفری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شہر کا امن خراب کرنے کی سازش اور فرقہ وارانہ دہشت گردی قرار دیا، اور مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
