پانچ روزہ کراچی ورلڈ بک فیئر 2025 کا افتتاح وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کراچی ایکسپو سینٹر میں کیا۔ افتتاحی تقریب میں ملکی و غیر ملکی پبلشرز، ادیبوں، طلبہ اور کتاب دوست افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ کراچی ورلڈ بک فیئر میں شرکت کر کے انہیں ہمیشہ خوشی ہوتی ہے اور وہ پورا سال اس میلے کا انتظار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کتابیں سماجی ترقی کی بنیاد ہیں اور اگر کتاب ختم ہوگئی تو خواب بھی مرجائیں گے، اس لیے کتاب کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے کتابوں کی چھپائی کم کر دی تھی، وہ اب دوبارہ کتاب کی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کتب میلے کی انتظامیہ سے درخواست کی کہ سندھ کے دیگر شہروں تک بھی کتابوں کی نمائش کو پھیلایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں لائبریری کے لیے جگہ مختص کی جا رہی ہے اور کاغذ پر ٹیکس ختم کرنے کے لیے ایف بی آر کو خط بھی لکھا جا چکا ہے۔
اس موقع پر سابق وزیر اطلاعات اور آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ عالمی کتب میلے میں بچوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر زندگی کا احساس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتاب تہذیب کی کنجی ہے اور آرٹس کونسل ہمیشہ مثبت سرگرمیوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران نورانی نے کہا کہ اگلے سال حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر میں بھی بک فیئر منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو کتابوں سے جوڑیں اور اسکولوں میں اچھی لائبریریوں کا قیام ضروری ہے۔
کراچی ورلڈ بک فیئر کے کنوینئر وقار متین نے بتایا کہ اس پانچ روزہ میلے میں پاکستان کے 140 پبلشرز اور کتاب فروشوں کے علاوہ 17 ممالک سے تعلق رکھنے والے 40 غیر ملکی نمائش کنندگان نے اسٹال لگائے ہیں۔ آخر میں انہوں نے مہمان خصوصی اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
