جامعہ کراچی نے صوبہ سندھ کے پہلے سینٹر آف ڈیجیٹل فرانزک سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (CDFST) کا افتتاح کر دیا ہے، جو ایک جدید سہولت ہے جس کا مقصد صوبے میں تحقیق، تربیت اور سائبر سیکیورٹی کو فروغ دینا ہے۔
افتتاحی تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کی، جبکہ اس منصوبے کی فنڈنگ وفاقی حکومت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ذریعے فراہم کی۔ یہ سندھ کی تیسری فرانزک سہولت ہے اور پہلی ڈیجیٹل فرانزک سینٹر ہے جو کسی جامعہ میں قائم کیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سیّد شیخ کے مطابق نیا سینٹر ایک میگا پروجیکٹ کا حصہ ہے جو 2018 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے میں یونیورسٹی کیمپس میں ایک نیا ریسرچ سینٹر اور گرلز ہاسٹل کا قیام بھی شامل ہے۔ شیخ نے بتایا کہ عمارت کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور اسے جامعہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ لیبارٹری کے آلات اور دیگر سامان کی فراہمی جلد مکمل کر لی جائے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان میں ڈیجیٹل فرانزک کا شعبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، جو فی الحال زیادہ تر ایف آئی اے کے سائبر کرائم وِنگ اور پنجاب فرانزک ایجنسی کے زیر انتظام ہے۔ نئے سینٹر کے قیام سے تمام ڈیجیٹل فرانزک سہولیات کو ایک ہی چھت تلے یکجا کیا جائے گا، جس سے تحقیق اور تفتیش کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
308 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ 38,000 مربع فٹ عمارت 23 کلاس رومز، 11 لیبارٹریز، 32 دفاتر، اور 18 اسٹور رومز پر مشتمل ہے۔ اس کمپلیکس میں جدید سیکیورٹی سسٹمز کے ساتھ معذور افراد کے لیے آسان رسائی کی سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں، تاکہ طلبہ اور محققین کے لیے ایک محفوظ اور شمولیتی ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
