سرحد پر پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بھرپور اور فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں متعدد طالبان ٹھکانے اور ٹینک تباہ ہوگئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کی فائرنگ کے مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے شدید جوابی فائر کیا، جس کے بعد افغان طالبان کی کئی چوکیوں پر آگ بھڑک اٹھی۔ کارروائی کے دوران طالبان کا ایک ٹینک تباہ ہوا، جبکہ متعدد جنگجو ہلاک ہو گئے اور باقی علاقے سے فرار اختیار کر گئے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے ایک گھنٹے کے دوران طالبان کے چار ٹینک ٹھکانے — بشمول شمشاد پوسٹ — مکمل طور پر تباہ کر دیے۔ کارروائی میں ’’فتنہ الخوارج‘‘ کا ایک اہم کمانڈر بھی مارا گیا۔
یہ چند روز میں دوسرا بڑا سرحدی واقعہ ہے جس میں افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کیے گئے۔ 11 اکتوبر کی رات افغان فورسز نے انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارامچہ سمیت مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی۔
پاک فوج نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، متعدد پوسٹیں تباہ کیں اور 200 سے زائد عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، پاک فوج نے افغان حدود کے اندر طالبان کیمپوں، دہشت گرد تربیتی مراکز اور سپورٹ نیٹ ورکس پر مخصوص اور درست حملے کیے۔
"پاک فوج نے افغان سرزمین سے کام کرنے والے طالبان کیمپوں اور دہشت گرد مراکز پر درست نشانہ لگا کر کارروائی کی،” آئی ایس پی آر نے بتایا، "اس دوران 23 پاکستانی جوان مادرِ وطن کے دفاع میں شہید ہوئے۔”
سرحدی کشیدگی میں اضافہ
اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات میں حالیہ دنوں میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے کیونکہ افغان عبوری حکومت پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار گروہوں کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کر رہی۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان مالی، عسکری اور عملی روابط موجود ہیں۔
پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ رواں سال اپریل سے اب تک 5 لاکھ 54 ہزار سے زائد افغان شہری وطن واپس جا چکے ہیں، جن میں اگست کے دوران تقریباً 1 لاکھ 45 ہزار افراد شامل ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہیں، جنہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔
