جب شاہ رخ خان کی نئی فلم ’کنگ‘ (King) کا پہلا لک ان کے 60ویں یومِ پیدائش پر جاری کیا گیا، تو سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا۔
مداحوں نے ان کے نئے روپ کو “بادشاہ کی واپسی” قرار دیا — نمک و مرچ جیسے بال، اسٹائلش جیکٹ، اور وہی پرکشش اعتماد جس نے ایک بار پھر یاد دلا دیا کہ شاہ رخ کیوں کنگ خان کہلاتے ہیں۔
لیکن، جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے — انٹرنیٹ پر سب خوش نہیں ہوتے۔
کچھ صارفین نے فوراً شاہ رخ کے لباس کا موازنہ برڈ پٹ (Brad Pitt) کی آنے والی فلم F1 سے کرنا شروع کر دیا۔
ایک جیکٹ، اور پوری سوشل میڈیا جنگ
کنگ کے ٹیزر میں شاہ رخ خان ایک نڈر، پراسرار اور بے حد اسٹائلش قاتل کے کردار میں نظر آئے۔
تاہم، کچھ ناظرین نے نوٹ کیا کہ ان کا نیلا شرٹ اور بھورا جیکٹ والا انداز بالکل ویسا ہی ہے جیسا برڈ پٹ نے F1 کی شوٹنگ کے دوران پہنا تھا۔
جلد ہی سوشل میڈیا پر #KingSRK اور #BradPittF1 ٹرینڈ کرنے لگے۔
جہاں مداحوں نے شاہ رخ کی تعریفوں کے پل باندھے، وہیں کچھ ناقدین نے الزام لگایا کہ بالی ووڈ “ہالی ووڈ کی نقل” کر رہا ہے۔
سدھارتھ آنند کا ردِعمل: "ہیٹرز کی مضحکہ خیز منطق”
ہدایتکار سدھارتھ آنند، جو اس فلم کے شریک ہدایتکار ہیں، نے بالآخر طنزیہ انداز میں ردِعمل دیا — اور ان کا جواب بالی ووڈ اسٹائل میں زبردست تھا۔
انہوں نے ایک وائرل پوسٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا:
“ہیٹرز کی آج کل کی منطق واقعی مزاحیہ ہے:
لڑاکا جہاز → کاپی آف Top Gun
جہاز → کاپی آف Titanic
وہی لباس → کاپی آف F1
نارنجی کپڑے → اینٹی ہندو
ان کا IQ → 1947 سے بفرنگ پر”
آنند نے ساتھ میں ہنسنے اور “اوکے” کے ایموجیز بھی لگائے — یعنی، وہ اس بحث کو زیادہ سنجیدہ نہیں لے رہے۔
مداحوں نے ان کے اس مزاحیہ ردِعمل کو “پرفیکٹ سلیپ” قرار دیا اور کہا، “جو لوگ نقل کہتے ہیں، وہ دراصل تعریف کر رہے ہیں۔”
مداحوں کا ردِعمل: "کنگ نقل نہیں کرتا، ٹرینڈ بناتا ہے”
شاہ رخ خان کے مداحوں نے ہدایتکار کی حمایت میں ٹوئٹر بھر دیا۔
ایک صارف نے لکھا:
“شاہ رخ خان کسی کی نقل نہیں کرتے، لوگ ان سے نقل کرتے ہیں!”
دوسرے نے کہا:
“اگر وہ سفید ٹی شرٹ بھی پہنیں تو لوگ کہیں گے یہ بھی کسی ہالی ووڈ فلم سے متاثر ہے۔ یہی ہے اصل پاور آف SRK!”
مداحوں کا مجموعی تاثر یہی تھا:
“کنگ خان” نقل نہیں کرتے — وہ فیشن خود ایجاد کرتے ہیں۔
فلم ‘کنگ’ کے بارے میں
کنگ میں شاہ رخ خان کئی سال بعد ایک اینٹی ہیرو کردار میں واپسی کر رہے ہیں،
جیسا کہ انہوں نے ڈان اور رئیس میں کیا تھا۔
یہ فلم سدھارتھ آنند (پٹھان، فائٹر) اور سجوئے گوش (کہانی، بدلا) کی مشترکہ ہدایت میں بن رہی ہے،
جبکہ شاہ رخ خان کی بیٹی سوہانا خان اس فلم کے ذریعے بڑے پردے پر ڈیبیو کریں گی۔
فلم میں شاہ رخ ایک خطرناک قاتل کا کردار ادا کر رہے ہیں،
جس کے بارے میں خود ان کا کہنا ہے کہ یہ کردار “اندھیرا، پیچیدہ اور گناہوں سے بھرپور” ہے۔
کنگ کی ریلیز 2026 کے وسط میں متوقع ہے۔
خلاصہ
سدھارتھ آنند کے مطابق، یہ موازنہ صرف سوشل میڈیا کی "اوور ری ایکشن” ہے۔
ان کا واضح پیغام ہے: “تخلیقیت لباس سے نہیں، نیت سے پہچانی جاتی ہے۔”
اور اگر شاہ رخ خان کے انداز نے اتنا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے،
تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کنگ محض ایک فلم نہیں — ایک عالمی اسٹائل اسٹیٹمنٹ بننے جا رہی ہے۔
