پہلی بار فلسطین عالمی مس یونیورس مقابلے میں اپنی نمائندگی کرے گا — اور اس تاریخی لمحے میں فلسطینی امیدوار نادین ایوب کے ساتھ کھڑی ہیں دنیا کی مشہور بیوٹی برانڈ ہُدا بیوٹی۔
عراقی نژاد امریکی کاروباری خاتون ہُدا کتان کی قائم کردہ اس برانڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نادین ایوب کی مس یونیورس 2025 کے سفر میں بطور سرکاری اسپانسر ان کی معاونت کرے گی۔ یہ مقابلہ نومبر میں تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں منعقد ہوگا۔
ایک تاریخی شراکت داری
یہ شراکت صرف خوبصورتی یا میک اپ تک محدود نہیں — یہ طاقت، نمائندگی اور وقار کی علامت ہے۔
ہُدا کتان نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں لکھا:
“ہمیں فخر ہے کہ ہم پہلی فلسطینی مس یونیورس امیدوار @nadeen.m.ayoub کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک مقابلہ حسن نہیں، بلکہ طاقت، فخر اور نمائندگی کی کہانی ہے۔”
ہُدا بیوٹی نادین ایوب کی مکمل تیاری، اسٹائلنگ اور عالمی سطح پر نمائندگی میں معاونت کرے گی۔
نادین ایوب کون ہیں؟
نادین ایوب کی عمر 27 سال ہے۔ وہ ایک ماڈل، فٹنس کوچ اور سماجی کارکن ہیں جو خواتین کی صحت، تعلیم اور خود انحصاری کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔
وہ اولیو گرین اکیڈمی (Olive Green Academy) اور سیدۃ فلسطین فاؤنڈیشن (Sayidat Falasteen Foundation) کی بانی ہیں — جو پائیداری، خواتین کی فلاح و بہبود اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ پر کام کرتی ہیں۔
نادین نے کہا:
“یہ صرف ایک خواب نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ میں صرف اپنا نہیں، بلکہ اپنی قوم کا نام لے کر جا رہی ہوں۔ یہ وقت ہے دنیا کو دکھانے کا کہ فلسطینی عورتیں مضبوط، باوقار اور امید سے بھرپور ہیں۔”
یہ شراکت کیوں اہم ہے؟
یہ اشتراک کئی حوالوں سے ایک تاریخی سنگ میل ہے:
-
فلسطین کے لیے: پہلی بار کوئی فلسطینی خاتون مس یونیورس میں حصہ لے رہی ہے۔
-
ہُدا بیوٹی کے لیے: یہ قدم برانڈ کے اس مشن کی عکاسی کرتا ہے جو شمولیت، خود اظہار اور تنوع کو فروغ دیتا ہے۔
-
دنیا بھر کی خواتین کے لیے: یہ یاد دہانی ہے کہ خوبصورتی صرف ظاہری نہیں، بلکہ مقصد اور شناخت سے جڑی ہوتی ہے۔
عالمی مبصرین اور فیشن شائقین نے اس اقدام کو “خوبصورتی اور بامقصد نمائندگی کا حسین امتزاج” قرار دیا ہے۔
مس یونیورس 2025 کے بارے میں
74واں مس یونیورس مقابلہ نومبر میں بینکاک (تھائی لینڈ) میں منعقد ہوگا، جس میں دنیا بھر سے 130 سے زائد ممالک کی حسینائیں حصہ لیں گی۔
نادین ایوب کی شرکت نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ فلسطینی نژاد کمیونٹی میں بھی بے حد جوش پیدا کر دیا ہے۔
خوبصورتی سے آگے کی کہانی
ہُدا کتان کے لیے یہ اشتراک ذاتی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اکثر اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خواتین کی آواز، نمائندگی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے:
“یہ صرف ایک مقابلہ نہیں، بلکہ ان خواتین کو جگہ دینے کا لمحہ ہے جنہیں دنیا نے طویل عرصے تک نظر انداز کیا۔ جب ہم ایک دوسرے کی کہانیوں کا جشن مناتے ہیں، ہم خوبصورتی کے معنی بدل دیتے ہیں۔”
یہ شراکت فلسطینی خواتین کے لیے نہ صرف فخر کا باعث ہے بلکہ ایک نئے باب کی شروعات بھی — جہاں خوبصورتی، طاقت اور شناخت ایک ساتھ چلتی ہیں۔
