وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9 مئی کے مقدمات میں سنائے گئے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ روز روشن کی طرح واضح ہو چکا ہے کہ ان واقعات کا ماسٹر مائنڈ اس وقت جیل میں موجود ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج قانون کی حکمرانی اور قانونی دفعات پر عمل درآمد کی جیت کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے حملوں کے ناقابل تردید شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔ بلوائیوں نے دفاعی تنصیبات، شہداء کی یادگاروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بھی زخمی کیا گیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ان مقدمات کا ٹرائل طویل عرصے تک جاری رہا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ فیصل آباد میں دفاعی اداروں کے دفاتر پر حملے اور لاہور کے جناح ہاؤس میں پیشہ ور ڈاکوؤں کی طرز پر لوٹ مار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان واقعات نے ریاستی اداروں کو چیلنج کیا، مگر آج انصاف کی جیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور سزا سے بچ جائیں گے، آج ان کا یہ گمان غلط ثابت ہوا ہے۔ ان سزاؤں کے بعد کوئی شخص دوبارہ ایسی گھناونی سازش کی جرات نہیں کرے گا۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ تمام شواہد، بشمول ویڈیوز، کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو چکے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ حملے ایک منظم سازش کے تحت کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے ملک کے اندر بیٹھ کر دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کی کوشش کی، مگر عدلیہ اور قانون نے انہیں انجام تک پہنچایا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ سزائیں آئین و قانون کے مطابق اور منصفانہ ٹرائل کے تحت دی گئی ہیں، جو کہ عدالتی نظام کی فتح اور انصاف کی بالا دستی کی علامت ہے۔ “ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”
