واشنگٹن: ایک نئی واچ ڈاگ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دھوکہ دہی میں ملوث عناصر میٹا کے پلیٹ فارمز پر سیاسی اشتہارات کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں، جہاں وہ معروف شخصیات کی جعلی ویڈیوز (ڈیپ فیک) استعمال کر کے عوام کو فرضی سرکاری فوائد پر یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
نان پرافٹ ادارے ٹیک ٹرانسپیرنسی پروجیکٹ (TTP) کے مطابق کم از کم 63 اشتہاری اکاؤنٹس نے فیس بک اور انسٹاگرام پر تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے جعلی مہماتی اشتہارات چلائے، جن میں جعلی امدادی چیکس، سرکاری اخراجات کے کارڈز اور ہیلتھ کیئر ادائیگیوں کے جھوٹے دعوے شامل تھے۔ یہ اشتہارات زیادہ تر معمر افراد کو نشانہ بناتے ہوئے ہزاروں صارفین تک پہنچے، اس سے قبل کہ انہیں رپورٹ کر کے ہٹا دیا گیا۔
ایک اشتہار جسے ’’ریلیف الیجیبلٹی سینٹر‘‘ کے نام سے چلایا گیا، میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو استعمال کی گئی، جس میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ امریکی شہریوں کو مفت 5 ہزار ڈالر کا چیک دیا جائے گا۔ یہ ویڈیو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کی گئی حقیقی تقریر پر مبنی تھی، لیکن آڈیو کو تبدیل کر کے عوام کو گمراہ کیا گیا۔ یہ جعلی مہم 20 سے زائد امریکی ریاستوں میں 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو ہدف بناتی رہی اور متاثرین کو فراڈ ویب سائٹس پر لے جاتی رہی۔
دیگر جعلی اشتہارات میں ایلون مسک اور ڈیموکریٹک رہنماؤں جیسے برنی سینڈرز کے کلپس کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، جو آن لائن دھوکہ دہی کے ایک پرانے رجحان کو آگے بڑھاتا ہے، جس پر بارہا فیکٹ چیکرز خبردار کر چکے ہیں۔
میٹا کے قوانین کے مطابق امریکا میں سیاسی اشتہارات دینے والوں کو شناختی دستاویز اور تصدیق شدہ پتا فراہم کرنا لازمی ہے، لیکن TTP کے مطابق تقریباً نصف فراڈ اکاؤنٹس اس ہفتے بھی فعال رہے، حالانکہ وہ قواعد کی خلاف ورزی کر چکے تھے۔ اگرچہ میٹا نے 35 اکاؤنٹس معطل کر دیے، لیکن اس وقت تک وہ سینکڑوں اشتہارات چلا چکے تھے۔ کچھ اکاؤنٹس نے ایک ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیا، اس سے پہلے کہ انہیں بند کیا گیا۔
میٹا نے اپنے دفاع میں کہا کہ وہ ’’دھوکہ دہی والے اشتہارات کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے‘‘ اور نئے ٹیکنالوجی ٹولز میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ فراڈ کی نشاندہی کی جا سکے۔ تاہم، واچ ڈاگز کا کہنا ہے کہ کمپنی کی نگرانی بہت کمزور ہے، جس کی وجہ سے فراڈرز اے آئی ٹولز، عوام کی لاعلمی اور پالیسیوں کی خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
امریکی ریگولیٹرز کے مطابق یہ رجحان ایک وسیع تر فراڈ بحران کا حصہ ہے۔ فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کی رپورٹ کے مطابق 2020 سے اب تک معمر امریکیوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے کیسز چار گنا بڑھ چکے ہیں، جن میں اکثر افراد نے 10 ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ بعض اوقات اپنی تمام جمع پونجی گنوا دی۔
یہ نتائج ایک پریشان کن حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، ویسے ہی فراڈ کے طریقے بھی بدل رہے ہیں، اور اس کی قیمت کمزور شہریوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
