یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچے، مقصد تھا جدید امریکی ہتھیار حاصل کرنا، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’’ٹام ہاک‘‘ میزائل۔ مگر ملاقات کے بعد واضح ہوا کہ صدر ٹرمپ کا جھکاؤ جنگ کے بجائے امن کی طرف ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ظہرانے کے دوران ٹرمپ نے کہا،
’’مجھے لگتا ہے صدر زیلنسکی بھی یہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور صدر پیوٹن بھی۔ اب صرف یہ ہے کہ دونوں تھوڑا ساتھ چلیں۔‘‘
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ یوکرین کو مزید میزائل دینے کے بجائے روس اور یوکرین کے درمیان مصالحت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا،
’’ہمیں بھی ٹام ہاک میزائل چاہیئے، ہم وہ چیزیں نہیں دینا چاہتے جو ہماری اپنی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔‘‘
زیلنسکی نے جواب میں کہا کہ یوکرین کے پاس ہزاروں ڈرونز ہیں مگر میزائل کی کمی ہے۔
’’ہمارے پاس ٹام ہاک نہیں، اسی لیے ہمیں ان کی ضرورت ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
ملاقات کے بعد زیلنسکی نے اعتراف کیا کہ امریکہ جنگ کو مزید بڑھانا نہیں چاہتا۔ ’’ہم حقیقت پسند ہیں،‘‘ انہوں نے کہا، ’’اور صدر ٹرمپ سے امید ہے کہ وہ پیوٹن پر دباؤ ڈالیں گے کہ جنگ روکے۔‘‘
یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں رہنماؤں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ایک حالیہ فون کال پر بھی بات کی۔ ٹرمپ جلد ہنگری میں پیوٹن سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس سے ممکنہ طور پر جنگ کا رخ بدل سکتا ہے۔
یورپی ممالک نے ٹرمپ کے نرم رویے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یورپی یونین کے ترجمان نے کہا کہ اگر یہ مذاکرات امن لا سکتے ہیں تو ’’یہ قابلِ خیرمقدم‘‘ ہیں، مگر خدشہ یہ بھی ہے کہ کہیں کوئی ایسا معاہدہ نہ ہو جائے جو روس کے حق میں ہو۔
ماہرین کے مطابق پیوٹن کا رویہ تاخیری حربہ معلوم ہوتا ہے۔
سابق امریکی عہدیدار مائیکل کارپنٹر کے مطابق، ’’حقیقت یہ ہے کہ روس پر دباؤ ڈالنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔‘‘
ادھر روس نے 2025 میں تقریباً 5 ہزار مربع کلومیٹر یوکرینی علاقہ قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کی مجموعی پیش قدمی ناکام رہی ہے۔
صدر ٹرمپ جو نوبیل امن انعام کے خواہاں ہیں، ایک اور تنازعہ ختم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ مگر یہ کوشش امن کی طرف لے جائے گی یا غیر یقینی کی طرف، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔
