پاکستان تحریکِ انصاف نے جمعے کو بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر شدید اعتراض اٹھایا اور کہا کہ یہ منتقلی اچانک ہوئی اور اسے مناسب انداز میں ظاہر نہیں کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف بشریٰ بی بی کی صحت بلکہ ان کے قانونی حقوق سے متعلق بھی نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ انہیں اس منتقلی کی اطلاع رات گئے ایک پیغام کے ذریعے ملی، جبکہ اس وقت تک ان کی طبی حالت اور علاج کی نوعیت کے بارے میں مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔
دوسری طرف جیل حکام نے اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کی۔ حکام کے مطابق بشریٰ بی بی نے دائیں آنکھ کی بینائی میں مسئلے کی شکایت کی تھی، جس کے بعد ماہر ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔ بتایا گیا کہ ان کی دائیں آنکھ میں ریٹینا الگ ہونے کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد فوری آپریشن کا مشورہ دیا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق انہیں 16 اپریل کی شام راولپنڈی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی معائنے اور ٹیسٹ کے بعد آپریشن کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد انہیں رات بھر نگرانی میں رکھا گیا اور پھر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
مگر سرکاری وضاحت کے باوجود پی ٹی آئی کا احتجاج کم نہیں ہوا۔ بیرسٹر گوہر نے واضح طور پر کہا کہ پارٹی بشریٰ بی بی کے اہلِ خانہ کو فوری رسائی دینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جیل میں قید کسی بھی شخص کو طبی سہولت، اہلِ خانہ سے ملاقات اور قانونی نمائندگی تک رسائی دینا بنیادی حق ہے، کوئی رعایت نہیں۔ بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو نے بھی کہا کہ خاندان کو اطلاع دی گئی تھی اور انہوں نے عوام سے دعا کی اپیل کی کیونکہ بشریٰ بی بی ایک اہم آپریشن سے گزر رہی تھیں۔
یہ تنازع صرف ایک اسپتال منتقلی تک محدود نہیں۔ دراصل یہ معاملہ پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان اس وسیع تر کشمکش کا حصہ ہے جس میں قیدیوں کی صحت، جیل کے حالات، طبی شفافیت اور ملاقاتوں کے حقوق مسلسل زیرِ بحث رہے ہیں۔ بعد ازاں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ آپریشن کے بعد اہلِ خانہ کو اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ جیل ذرائع نے ان کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا۔ اس کے باوجود پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ خاندان اور وکلا کو بروقت اور مکمل معلومات دینا ضروری تھا، نہ کہ بعد میں ٹکڑوں میں خبریں سامنے آئیں۔
یہ معاملہ اب عدالت تک بھی جا پہنچا ہے۔ حالیہ عدالتی کارروائی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ بشریٰ بی بی کے ذاتی معالج سے معائنے اور اہلِ خانہ سے ملاقات سے متعلق درخواست پر دو دن میں فیصلہ کیا جائے۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ 16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب ان کا آپریشن ہوا تھا۔ عدالت نے بھی ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ پہلے ہی سوشل میڈیا اور عوامی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔
بشریٰ بی بی اس وقت اہم مقدمات میں سزا کاٹ رہی ہیں، جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان بھی راولپنڈی میں قید ہیں اور مختلف قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی لیے ان دونوں سے متعلق ہر طبی پیش رفت فوراً سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ اس واقعے میں بھی یہی ہوا۔ حکام نے اسے ایک ضروری طبی اقدام قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اسے اپنی قیادت کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ غیر شفاف رویے کی ایک اور مثال کہا۔
فی الحال جو باتیں واضح ہیں وہ یہ ہیں: بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل سے راولپنڈی کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، ان کی آنکھ کا آپریشن ہوا، وہ ایک رات وہاں رہیں اور پھر واپس جیل منتقل کر دی گئیں۔ مگر اصل تنازع اس بات پر ہے کہ آیا ان کے اہلِ خانہ اور وکلا کو اس منتقلی اور علاج کے بارے میں بروقت اور شفاف انداز میں آگاہ کیا گیا یا نہیں۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں یہی سوال محض ایک تفصیل نہیں، بلکہ پوری خبر کا مرکز بن چکا ہے۔
