کراچی – سی ٹی ڈی سندھ اور وفاقی حساس ادارے نے خفیہ اطلاع پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کے دو دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر اور ایس پی ملک سنکھار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار دہشتگردوں کی شناخت اسرار حسین گلگتی ولد ابرار حسین اور معصوم رضا عرف عامراللہ عرف عمران موٹا ولد مرزا انور علی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے دو نائن ایم ایم پستول اور دو ہینڈ گرنیڈز برآمد کیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق سی ٹی ڈی نے شہر میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کے بعد 32 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ شہر میں فرقہ وارانہ دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ انھوں نے 9 اکتوبر کو یونیورسٹی روڈ پر قاری انس رحمان اور مئی 2025 میں شیرپاؤ کالونی میں قاری عبد الرحمن کو قتل کیا۔
ڈی آئی جی غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ ملزم معصوم رضا ریڈ بک میں شامل مطلوب دہشتگرد ہے۔ گرفتار ملزمان کالعدم تنظیم زینبیون بریگیڈ کے سرگرم رکن ہیں اور شہر میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرتے رہے ہیں۔
ملزمان نے اپنے غیر ملکی رابطوں اور مالی معاونت کا بھی انکشاف کیا ہے، جبکہ تنظیم کا مرکزی رہنما پڑوسی ملک میں مقیم ہے جو ان سے رابطے میں رہتا تھا۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے کئی سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور دہشتگردی کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کی مالی معاونت کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے، جبکہ سی ٹی ڈی کو شہر میں سرگرم سلیپر سیلز کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہو گئی ہیں، جن کے خلاف جلد کارروائی متوقع ہے۔
انھوں نے بتایا کہ قاری انس رحمان کو گرفتار ملزمان نے ٹریپ کر کے بلدیہ ٹاؤن سے یونیورسٹی روڈ بلایا، جہاں قتل کی واردات کی گئی۔ اسی سراغ کی بنیاد پر سی ٹی ڈی نے پورا نیٹ ورک بے نقاب کیا۔
ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ کراچی میں اسلحہ کرایہ پر دستیاب ہے اور سلیپر سیلز نے مختلف مقامات پر اسلحے کے ذخائر چھپا رکھے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو ان ٹھکانوں کا پتہ چل چکا ہے اور کارروائیاں جاری ہیں۔
