پاکستانی موسیقار بلال مقصود نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنے والد، معروف مزاح نگار اور ادیب انور مقصود کے بارے میں ایک دلچسپ انکشاف کیا — کہ ان کے والد ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، چاہے ان کے گائے یا لکھے ہوئے گانے اتنے اچھے نہ بھی ہوں۔
بلال نے مسکراتے ہوئے بتایا، "ابو میری بری دھنوں کی بھی تعریف کرتے تھے۔” بچپن میں جب وہ نئے گانے لکھ کر یا گنگنا کر والد کے پاس جاتے تو تنقید کے بجائے تعریف اور حوصلہ افزائی ملتی۔
"ایک بار میں نے ابو کو ایک گانا سنایا تو انہوں نے کہا کہ چند غلطیاں ہیں، مگر میں انہیں درست نہیں کرنا چاہتا کیونکہ پیغام واضح طور پر پہنچ رہا ہے،” بلال نے بتایا۔ ان کے مطابق، والد کا یہ رویہ انہیں فن میں مکمل آزادی دیتا تھا — کامل ہونے کے بجائے سچ بولنے اور دل سے لکھنے کی ترغیب۔
انور مقصود کا نام پاکستان کے ہر گھر میں جانا پہچانا ہے۔ ان کی مزاح نگاری، مکالمہ نگاری اور ڈرامہ نویسی نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ لیکن بلال کے لیے وہ صرف ایک مشہور فنکار نہیں، بلکہ ایک ایسا باپ تھے جو اپنے بیٹے کے چھوٹے چھوٹے خوابوں پر بھی فخر کرتے تھے۔
بلال مقصود، جو بعد میں پاکستان کے مشہور پاپ بینڈ Strings کے روحِ رواں بنے، کہتے ہیں کہ ان کے والد کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ انہوں نے کبھی اپنے بیٹے کو اپنے معیار سے باندھنے کی کوشش نہیں کی۔
"ابو نے کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ مجھے ان جیسا بننا ہے، وہ بس یہ چاہتے تھے کہ میں تخلیق کرتا رہوں۔”
اسی آزادی نے بلال کو وہ ہمت دی جس کی بدولت انہوں نے "سر کیے یہ پہاڑ”، "دھانی” اور "انجانے” جیسے یادگار گیت تخلیق کیے — جو آج بھی پاکستانی موسیقی کے سنہری دور کی پہچان ہیں۔
یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ بڑے فنکاروں کے پیچھے اکثر ایک سادہ سی حقیقت ہوتی ہے — والدین کا یقین اور محبت۔ بلال کے لیے یہ یقین ایک ایسے شخص سے آیا، جس کے الفاظ نے قوم کو سوچنا سکھایا، اور جس کے حوصلے نے بیٹے کو اپنی آواز تلاش کرنے کا حوصلہ دیا۔
