پشاور — خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اڈیالہ جیل میں پارٹی چیئرمین سے ملاقات سے روک دیا گیا، حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے احکامات موجود تھے۔ انہوں نے اس واقعے کو عدالتی اداروں کی کمزوری قرار دیا۔
پشاور ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ و تحصیل بارز کو گرانٹ کے چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ بطور وزیراعلیٰ جمہوری طریقے سے آئے اور پارٹی سربراہ سے مشاورت کرنا ان کا حق ہے، مگر ایک حوالدار نے تین ججز کے حکم کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں ملاقات سے روک دیا۔ ’’یہ عدلیہ کی کمزوری ہے کہ ججز کا حکم ایک حوالدار ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
وزیراعلیٰ نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ آئین اور قانون کے دفاع میں ساتھ دیں اور کہا کہ گورننس کے امور آئینی دائرے میں رہ کر حل کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں یکساں تعلیمی نظام لایا جائے گا اور عوام کی حفاظت کے لیے قوانین مرتب کیے جائیں گے، تاہم اس کام کو بندوق یا غیرآئینی طریقوں سے انجام نہیں دیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی محض ایک گروہ تک محدود نہیں رہے گی۔ ’’یہ آگ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے،‘‘ انہوں نے کہا، اور زور دیا کہ تمام ادارے قانون کے دائرے میں متحد ہوں تاکہ ملک میں استحکام برقرار رہے۔
