اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائبر کرائم کے اجلاس میں اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب چار سینیٹرز نے انکشاف کیا کہ وہ خود آن لائن فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں ملکی سطح پر بڑھتے سائبر جرائم اور شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے لیک ہونے کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمٰن کی زیر صدارت ہوا، جس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی نے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں ایجنسی کے اندر بدعنوانی، افسران پر رشوت کے الزامات اور اختیارات کے غلط استعمال پر روشنی ڈالی گئی۔ شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی غیر قانونی آن لائن فروخت سے متعلق حساس امور پر اجلاس کا حصہ بند دروازوں کے پیچھے منعقد کیا گیا۔
سینیٹرز خود سائبر فراڈ کا نشانہ بن گئے
اجلاس کے دوران غیر متوقع طور پر یہ انکشاف ہوا کہ سینیٹر بلال خان مندوخیل، سیف اللہ ابڑو، دلاور خان اور فلاک ناز آن لائن نوسربازوں کے ہتھے چڑھ گئے، جو خود کو سرکاری افسران یا واقف کار ظاہر کر رہے تھے۔
کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل سلیم رحمٰن نے بھی بتایا کہ انہیں بھی ایسے جعلسازوں کی کال موصول ہوئی تھی۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ ہیکرز عام طور پر پانچ سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کرتے ہیں، جب کہ سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ وہ دو قسطوں میں پانچ لاکھ روپے سے محروم ہوئیں۔ سینیٹر دلاور خان نے بتایا کہ ان سے آٹھ لاکھ پچاس ہزار روپے کی آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے فراڈ کیا گیا۔
فلاک ناز نے انکشاف کیا کہ جعلسازوں کو ان کے اہلِ خانہ اور نجی معلومات تک کی تفصیلات معلوم تھیں اور وہ خود کو “کاؤنسلنگ سینٹر” کے نمائندے ظاہر کر رہے تھے۔
اراکینِ کمیٹی نے NCCIA پر شدید تنقید کی کہ بارہا شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
قومی ڈیٹا لیک پر شدید تشویش
اجلاس میں شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے لیک ہونے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ بتایا گیا کہ ہزاروں پاکستانیوں بشمول وفاقی وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اور ٹیلی کام صارفین کے ذاتی کوائف آن لائن فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔
سینیٹر فیصل سلیم رحمٰن نے NCCIA حکام سے سوال کیا کہ ڈیٹا لیک روکنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی نے بتایا کہ اب تک 851 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ رابطہ جاری ہے جن کے نظام کا آڈٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے میں تین ماہ تک لگ سکتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایکسپریس نیوز نے 2024 میں شہریوں کے ڈیٹا کی غیر قانونی فروخت پر پہلی رپورٹ نشر کی، جب کہ 7 ستمبر 2025 کو ایک تازہ لیک کی خبر بھی سامنے لائی۔
اس پر وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے نوٹس لیتے ہوئے مکمل انکوائری اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی۔
بعد ازاں پی ٹی اے نے 1,372 ویب سائٹس، ایپس اور سوشل میڈیا پیجز بند کر دیے جو شہریوں کے ڈیٹا کی خرید و فروخت میں ملوث تھے۔
تحقیقات پر ابہام اور اداروں میں رابطے کا فقدان
اجلاس میں اس وقت الجھن پیدا ہوئی جب سینیٹر پالوشہ خان نے وزیر داخلہ کی جانب سے اعلان کردہ انکوائری کمیٹی کی پیش رفت پر سوال اٹھایا۔
تاہم وزارتِ داخلہ کے اسپیشل سیکریٹری اور ڈی جی NCCIA دونوں نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ ایسی کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس پر اراکین نے گہری تشویش ظاہر کی۔
سائبر گورننس پر سوالات
ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا کی متعدد وارننگز کے باوجود حکومت کی سائبر گورننس اب بھی کمزور ہے۔ حساس معلومات کے مسلسل افشا ہونے سے شہریوں کی پرائیویسی اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
لیک ہونے والے ڈیٹا میں موبائل سم مالکان کے پتے، کال ریکارڈز، شناختی کارڈز کی نقول اور بیرونِ ملک سفر کی تفصیلات شامل ہیں، جو ڈارک ویب پر فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شفافیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں بہتری نہ آئی تو سائبر مجرم شہریوں کے ذاتی اور قومی مفادات کو مسلسل نقصان پہنچاتے رہہں گی
