اسلام آباد: جی-11 جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سہولت کار، مکان مالک اور ٹی ٹی پی/فتنہ الخوارج سے منسلک چار مرکزی کارندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق حملے کے ماسٹر مائنڈ کی شناخت بھی کرلی گئی ہے جس سے تحقیقات میں اہم موڑ آیا ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق وہ سہولت کار جس نے خودکش بمبار کے لیے کمرہ حاصل کیا اور وہ مکان مالک جس نے رہائش فراہم کی، دونوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ حملہ آور ویزے پر پاکستان آیا تھا اور 2024 تا 2025 کے دوران کئی بار پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفر کرتا رہا۔
تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا کہ حملہ آور نے واقعے سے 23 روز قبل پنڈ پراچہ کا اپنے ساتھی کے ساتھ دورہ کیا، جس سے پیشگی ریکی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع نے حملے کے ماسٹر مائنڈ کی شناخت کی تصدیق بھی کردی ہے۔
ادھر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ کارروائی میں دہشت گرد سیل کے چار اراکین گرفتار کیے ہیں، جن میں گروہ کا آپریشنل کمانڈر بھی شامل ہے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق۔
گرفتار ہینڈلر ساجدعﷲ عرف شینا نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ اسے حملے کے احکامات ٹی ٹی پی کے کمانڈر سعیدالرحمٰن عرف داداﷲ نے دیے، جو اس وقت افغانستان میں موجود ہے اور باجوڑ کے علاقے ناوگئی کے لیے ٹی ٹی پی کے انٹیلی جنس انچارج کے طور پر کام کرتا ہے۔ داداﷲ نے ہی ساجدعﷲ کو خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی تصاویر بھیجیں اور اسے پاکستان کے اندر لانے کی ہدایت کی۔
ہدایت کے مطابق، ساجدعﷲ نے پشاور کے اخان بابا قبرستان سے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد منتقل کیا۔ حملے کے روز اس نے خود عثمان عرف قاری کو جیکٹ پہنائی اور اسے جوڈیشل کمپلیکس کی طرف روانہ کیا۔
حکام کے مطابق افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی/فتنہ الخوارج کی اعلیٰ قیادت اس نیٹ ورک کی ہر سطح پر رہنمائی کرتی رہی۔ متعلقہ پورا سیل آپریشنل کمانڈر اور تین معاونین سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تحقیقات جاری ہیں اور حکام کو مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔
