پاکستان میں ماحولیاتی بحران، بچوں کی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بچوں کی صحت شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف پانی، صاف ہوا اور بہتر صفائی کے نظام کے بغیر نہ بچوں کا مستقبل محفوظ ہے اور نہ ہی ملک کی ترقی۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 36 فیصد بچوں کی بیماریاں ماحول دوست عوامل سے جڑی ہوئی ہیں جن میں آلودہ فضا، غیر محفوظ پینے کا پانی اور ناقص نکاسی نظام شامل ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اس صورتحال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔
پالیسی ماہرین کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کو اب بھی زیادہ تر سڑکوں، ڈیموں اور توانائی منصوبوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جب کہ اس کے انسانی نقصانات — خاص طور پر بچوں کی زندگیوں — پر توجہ کم ہے۔
فارمن کرسچن کالج یونیورسٹی کی پبلک پالیسی ایکسپرٹ ڈاکٹر رابیہ چوہدری نے زور دیا کہ حکومت، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کے بغیر بچوں کے حقوق پر مبنی موسمیاتی پالیسی ممکن نہیں۔
قومی کمیشن برائے حقوقِ طفل (NCRC) کی قانونی مشیر شہیرزادے امین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کو کمیشن کے بنیادی مینڈیٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ سیلاب اور آلودگی تعلیمی و طبی سہولیات تک رسائی کم کر دیتی ہیں، جب کہ کم عمری کی شادی اور جبری مشقت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بچوں اور بچیوں کو پالیسی سازی میں شامل کیے بغیر پائیدار حل ممکن نہیں
دھند اور اسموگ سے ڈھکے شہروں میں بچے آج بھی صاف آسمان کی امید لیے جی رہے ہیں۔ ان کی آوازیں اس جدوجہد کی اصل بنیاد ہیں، جو ایک محفوظ اور روشن پاکستان کی طرف راستہ بنا سکتی ہیں۔
