لیپزگ — جرمنی میں موسیقی کے ماہرین نے یوهان سباسچین باخ کی دو ایسی آرگن کمپوزیشنز کو منظرِ عام پر پیش کر دیا ہے جو تین صدیوں تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ یہ دونوں نایاب تخلیقات اسی ہفتے تاریخی سینٹ تھامس چرچ میں پہلی بار بجائی گئیں — وہی مقام جہاں باخ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کام کرتے ہوئے گزارا اور جہاں اُن کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔
محقیقین کے مطابق یہ دریافت باخ اسٹڈیز میں دہائیوں بعد آنے والی سب سے اہم پیش رفت ہے، جو موسیقی کے اس عظیم ترین کمپوزر کے ابتدائی تخلیقی سفر کو نئی روشنی میں دکھاتی ہے۔
مخطوطات جو سالوں سے خاموش پڑے تھے
یہ دونوں کمپوزیشنز — جنہیں چاکون کی شکل میں لکھا گیا ہے — دراصل 1992 میں بیلجئم کی رائل لائبریری میں ملی تھیں، مگر اُس وقت ماہرین ان کا انتساب باخ سے ثابت نہیں کر سکے تھے۔
تحریر، انداز اور تاریخی اشارے مکمل طور پر واضح نہیں تھے۔
مگر اس سال تحقیق کا رخ بدل گیا۔
لیپزگ کے باخ آرکائیو میں پیٹر وولنی کی سربراہی میں ایک ٹیم نے کئی دہائیوں پر مبنی شواہد کو جوڑتے ہوئے آخرکار اُس کاتب کی نشاندہی کی جس نے یہ کمپوزیشنز نقل کیں: سالومون گُنتر جون — جو باخ کے ابتدائی شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
جب اُن کی تحریر اور پس منظر کو مخطوطات سے میچ کیا گیا تو محقیقین نے انتساب کو ’’تقریباً یقینی‘‘ قرار دیا۔
اب یہ دونوں کام باخ کے باضابطہ کیٹلاگ میں BWV 1178 اور BWV 1179 کے طور پر شامل کر دیے گئے ہیں۔
باخ کی نوجوانی کی جھلک
تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ دونوں کمپوزیشنز تقریباً 1705 کے آس پاس لکھی گئی ہوں گی — یعنی جب باخ ابھی اپنے بیسویں سال میں داخل ہو رہے تھے، ایک ایسا دور جس میں وہ تیزی سے تجربات کر رہے تھے اور موسیقی میں اپنی شناخت بنا رہے تھے۔
اگرچہ یہ تخلیقات باخ کے نوجوان دور سے تعلق رکھتی ہیں، مگر ان میں وہی جراتمندانہ ہم آہنگیاں، باریک بین کونٹرپوائنٹ اور مضبوط ساختی حس موجود ہے جو آگے چل کر باخ کے پختہ انداز کی پہچان بنے۔
ایک محقق کے مطابق:
“یوں لگتا ہے جیسے ایک نوخیز مگر غیرمعمولی ذہین کمپوزر کی آواز پہلی بار واضح ہوتی نظر آ رہی ہو۔”
لیپزگ میں تاریخی پہلی پرفارمنس
ان نئی دریافت شدہ کاموں کی پہلی پرفارمنس کے لیے سینٹ تھامس چرچ کا انتخاب غیر معمولی طور پر موزوں تھا۔
محفل میں یورپ بھر سے موسیقار، اسکالرز اور ثقافتی نمائندے شریک ہوئے، جنہوں نے اسے ’’زندگی میں ایک بار ملنے والا لمحہ‘‘ قرار دیا۔
پرفارمنس کرنے والے آرگن نوازوں نے دونوں کمپوزیشنز کو ’’حیرت انگیز طور پر بھرپور‘‘ اور ’’اسٹیج کے قابل‘‘ قرار دیا ہے، جس سے امکان ہے کہ یہ جلد باقاعدہ کنسرٹس میں جگہ بنا لیں گی۔
موسیقی کی دنیا کے لیے اہمیت
باخ کے نئے مصدقہ کام سامنے آنا آج کے زمانے میں نہایت نایاب ہے۔
چونکہ باخ کی بیشتر تخلیقات صدیوں سے جانی پہچانی ہیں، اس لیے دو مکمل آرگن کمپوزیشنز کا اس طرح دریافت ہونا ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت دیگر پرانے مخطوطات پر بھی نئی تحقیق کی راہ کھول سکتی ہے — ممکن ہے کہ مزید نامعلوم کام اب بھی یورپ کی لائبریریوں میں خاموشی سے پڑے ہوں۔
آگے کیا ہوگا؟
باخ آرکائیو دونوں کمپوزیشنز کے علمی ایڈیشن تیار کر رہا ہے، جبکہ یورپ کے کئی آرگن نواز ان کی ریکارڈنگ کا ارادہ رکھتے ہیں۔
موسیقی کے پبلشرز آئندہ سال انہیں اپنے نئے مجموعوں کا حصہ بنائیں گے۔
اور یوں تین صدیوں بعد دنیا کو باخ کی ’’نئی‘‘ موسیقی سننے کا موقع ملا ہے — اس بات کا ثبوت کہ وقت گزرنے کے باوجود بھی یہ عظیم کمپوزر آج بھی ہمیں حیران کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
