بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار پرکاش راج نے ایک بار پھر اپنے سیاسی بیان سے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اداکار نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اثرات سے دور رکھیں۔
20 اکتوبر 2025 کو پرکاش راج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک اے آئی تیار کردہ تصویر شیئر کی، جس میں ایک لڑکا اور لڑکی ٹی شرٹس پہنے دکھائی دے رہے ہیں جن پر لکھا ہے:
“اپنے بیٹے کو آر ایس ایس سے بچاؤ، اپنی بیٹی کو بی جے پی سے بچاؤ۔”
انہوں نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا:
“اگر آپ اپنے ملک اور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں… #justasking”
یہ پیغام چند ہی گھنٹوں میں وائرل ہوگیا، اور سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے اداکار کی جرات کو سراہا، جبکہ ناقدین نے الزام لگایا کہ وہ سیاست میں نفرت پھیلا رہے ہیں اور والدین کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔
پس منظر اور وجوہات
پرکاش راج کا یہ بیان اُن کے دیرینہ سیاسی مؤقف کے عین مطابق ہے۔ وہ طویل عرصے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر تنقید کرتے آئے ہیں اور خود کو “انسانیت، برداشت اور سیکولر اقدار” کا حامی قرار دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، یہ تازہ پیغام ایک ذاتی سانحے کے بعد سامنے آیا ہے، جب اُن کے ایک قریبی دوست کو مبینہ طور پر بی جے پی سے وابستہ افراد نے قتل کر دیا۔ اگرچہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی، لیکن اس نے اداکار کے سیاسی مؤقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔
گزشتہ ماہ بھی پرکاش راج نے چنئی میں فلسطین کے حق میں ایک ریلی سے خطاب کیا تھا، جہاں انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “انصاف پر خاموشی انسانیت کے ضمیر کو مٹا دیتی ہے۔”
سوشل میڈیا پر ردِعمل
اداکار کے بیان نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے۔ کچھ صارفین نے اُنہیں “سچ بولنے والی آواز” قرار دیا، جبکہ دیگر نے طنز کیا کہ “پرکاش راج اور منطق — دو چیزیں جو کبھی نہیں ملتیں۔”
ایک صارف نے لکھا:
“بالی وُڈ کو فلموں پر توجہ دینی چاہیے، سیاست پر نہیں۔”
جبکہ دوسرے نے کہا:
“کم از کم کوئی تو ہے جو طاقتوروں سے سوال کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔”
یہ ردِعمل بھارت کے سیاسی اور سماجی ماحول میں بڑھتی ہوئی خلیج کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ہر سیاسی رائے شدت سے بحث کا باعث بنتی ہے۔
اہمیت اور تجزیہ
پرکاش راج کا پیغام صرف ایک اداکار کی رائے نہیں، بلکہ ایک سماجی انتباہ ہے۔ انہوں نے والدین کو متنبہ کیا کہ “اپنے بچوں کے نظریاتی ماحول پر نظر رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کی تعلیم یا تربیت۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان اُس وسیع رجحان کی علامت ہے جہاں فنکار اور مشہور شخصیات اب کھل کر سیاسی گفتگو کا حصہ بن رہے ہیں۔
آگے کیا؟
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پرکاش راج کا یہ پیغام صرف سوشل میڈیا تک محدود رہتا ہے یا کوئی عملی تحریک بن پاتا ہے۔
فی الحال ایک بات طے ہے — ان کے چند الفاظ نے ایک بار پھر ملک بھر میں نظریات، سیاست اور والدین کے کردار پر بحث چھیڑ دی ہے۔
