پاکستان بھر میں آج عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کی 41ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی، جن کے انقلابی اشعار اور انسانی وقار کی جدوجہد آج بھی نئی نسلوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ادبی تنظیموں، جامعات اور ثقافتی اداروں میں خصوصی تقریبات اور سیمینار منعقد ہوئے، جن میں مقررین نے فیض کی ادبی خدمات، سیاسی فکر اور ترقی پسند تحریک میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ جیل، جلاوطنی اور سنسرشپ کے دور میں تخلیق کیے گئے ان کے اشعار نے مظلوموں کی آواز بن کر تاریخ میں خاص مقام بنایا۔
سیاکوٹ میں 1911ء کو پیدا ہونے والے فیض احمد فیض نے نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور دیگر مجموعوں کے ذریعے محبت اور مزاحمت کو ایک انوکھے انداز میں یکجا کیا۔ ان کی عالمی پذیرائی، خصوصاً لینن امن ایوارڈ، کا بھی تقریبات میں ذکر کیا گیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ 1984ء میں انتقال کے بعد بھی فیض کا کلام جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ پڑھا اور سنایا جاتا ہے، اور آج کے سیاسی و سماجی مباحث میں ان کی آواز پہلے سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوتی ہے.
