ویتنام میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے اب تک 55 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
ویتنام کے وسطی علاقے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بری طرح متاثر ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ کم از کم 13 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں مگر خراب موسمی حالات کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
آفات سے نمٹنے والے سرکاری ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی انتہائی طوفانی بارشوں نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ صرف وسطی علاقوں میں بارش کی مقدار 1,900 ملی میٹر سے بھی تجاوز کر گئی جو معمول سے کئی گنا زیادہ ہے۔
سب سے زیادہ جانی نقصان ڈاک لک صوبے میں ہوا، جہاں 27 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ کھان ہوا صوبہ بھی شدید طور پر متاثر ہوا جہاں 14 جانیں ضائع ہوئیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے ملکی معیشت کو تقریباً 9 ٹریلین ڈونگ کے قریب نقصان پہنچ چکا ہے جس میں بنیادی ڈھانچے، رہائشی علاقوں اور فصلوں کی تباہی شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق 235,000 سے زائد گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں جب کہ 80,000 ایکڑ کے لگ بھگ زرعی رقبے پر بھی براہِ راست اثر پڑا ہے۔ یہ علاقہ کافی کی پیداوار اور سیاحت کے حوالے سے ویتنام کا اہم خطہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے طویل المدتی معاشی اثرات کا سامنا بھی متوقع ہے۔
