فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ہفتے کو خبردار کیا کہ عالمی طاقتوں کے بڑھتے اختلافات کے باعث جی 20 گروپ “خطرے” سے دوچار ہے اور بڑے عالمی بحرانوں پر مشترکہ موقف ابھرتا نظر نہیں آ رہا۔ یہ بیان انہوں نے جوہانسبرگ میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس میں دیا، جسے امریکہ کی بائیکاٹ نے مزید تناؤ کا شکار کر دیا۔
میکرون نے کہا کہ جی 20 “ایک دور کے اختتام” کی طرف بڑھ رہی ہے کیونکہ عالمی سیاست میں ایسے مرحلے کا سامنا ہے جہاں کئی بحرانوں کا حل تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے خاص طور پر جب “کچھ اہم ارکان میز پر موجود ہی نہیں”۔
امریکی عدم شرکت کے باوجود جی 20 ممالک نے موسمیاتی بحران اور دیگر عالمی چیلنجز سے متعلق مشترکہ اعلامیہ منظور کر لیا، جو مکمل طور پر امریکی رائے کے بغیر تیار ہوا تھا۔ واشنگٹن نے اسے “شرمناک” اقدام قرار دیا، تاہم جنوبی افریقی حکام نے واضح کیا کہ اعلامیہ “دوبارہ نہیں کھولا جائے گا”۔
کانفرنس کے دوران امریکہ کے اس یکطرفہ امن منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی، جس میں یوکرین جنگ کے حل کے لیے روس کے کئی سخت مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں۔ یورپی رہنماؤں نے جوہانسبرگ میں علیحدہ ملاقاتیں کرکے اس منصوبے کے مقابل متبادل تجاویز پر غور کیا۔ میکرون نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا، “یوکرین میں امن، یوکرینی قوم اور ان کی خودمختاری کے بغیر ممکن نہیں”۔
جی 20، جس میں 19 ممالک، یورپی یونین اور افریقی یونین شامل ہیں، بنیادی اصولوں جیسے انسانی قانون اور ریاستی خودمختاری پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
میکرون نے زور دیا کہ عالمی رہنماؤں کو فورم کو فعال رکھنے کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق، “اگر ہم نے چند بنیادی ترجیحات پر دوبارہ متحد ہوکر کام نہ کیا تو جی 20 واقعی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ہمیں عملی اقدامات دکھانا ہوں گے کہ یہ فورم ایک ساتھ بیٹھ کر ہماری معیشتوں کے لیے حل پیش کر سکتا ہے۔”
