نومبر 23، 2025
ویب ڈیسک
ماہرینِ آثار قدیمہ اور انسانیات ایک بار پھر اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ کیا نیئنڈرتھلز کے پاس کسی قسم کے مذہبی یا روحانی عقائد موجود تھے؟ واضح ثبوت تو نہیں ملے، مگر مختلف آثار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاید وہ علامتی یا رسوماتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔
تحقیقات کے مطابق نیئنڈرتھلز اپنے مُردوں کو دفن کرتے تھے، غاروں میں جانوروں کی کھوپڑیاں ترتیب سے رکھتے تھے اور ہڈیوں پر خاص نشانات یا نقش بناتے تھے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سب سرگرمیاں محض اتفاقی نہیں بلکہ کسی مقصد یا معنی کی حامل تھیں۔
ثبوت یہ بھی ملتے ہیں کہ وہ پرندوں کے پر زیورات کے طور پر استعمال کرتے تھے اور چیل کے پنجوں سے لٹکن نما چیزیں بناتے تھے۔ کچھ مقامات پر ان کے درمیان انسان خوری کے شواہد بھی ملے ہیں، جس پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ عمل رسوماتی تھا یا ضرورت کے تحت؟
باوجود اس کے کہ کئی اشارے ملتے ہیں، ماہرین اس موضوع پر متفق نہیں۔ کچھ اسے ابتدائی روحانیت کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ دیگر اسے ضرورت یا اتفاق پر مبنی عمل قرار دیتے ہیں۔ یوں نیئنڈرتھلز کے ممکنہ عقائد کا راز آج بھی پوری طرح نہیں کھل سکا۔
