کراچی: پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) نے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کے کوچ سلمان اقبال بٹ پر عائد تاحیات پابندی کو ختم کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ حیثیت بحال کر دی ہے۔
یہ فیصلہ سینیٹر پرویز رشید نے، بطور پی ایس بی ایڈجوڈی کیٹر، جاری کیا۔ فیصلے میں ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان (AFP) کی جانب سے لگائی گئی پابندی کو غیر آئینی، غیر قانونی، اختیارات سے تجاوز اور شروع سے ہی کالعدم قرار دیا گیا۔
AFP نے 12 اکتوبر کو کوچ بٹ پر پابندی عائد کی تھی، تاہم بٹ نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فیڈریشن نے نہ صرف اپنے اختیارات سے تجاوز کیا بلکہ کارروائی کے دوران کوئی قانونی یا ضابطے کی بنیاد بھی موجود نہیں تھی۔ طویل سماعتوں کے بعد 13 نومبر کو ایڈجوڈی کیٹر نے سلمان بٹ کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔
فیصلے کے مطابق:
"تاحیات پابندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔”
مزید برآں، AFP کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوراً وہ تمام منفی مراسلات واپس لے جو عالمی تنظیموں—جیسے ورلڈ ایتھلیٹکس اور ایشین ایتھلیٹکس—کو بھیجے گئے تھے اور جن سے بٹ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ فیڈریشن کو مستقبل میں بھی کسی قسم کے توہین آمیز یا نقصان دہ بیانات سے روک دیا گیا ہے۔
ایڈجوڈی کیٹر نے فیصلے میں کارروائی کے متعدد بڑے نقائص بھی واضح کیے، جن میں شامل ہیں:
کوچ کو کوئی باضابطہ چارج شیٹ جاری نہیں کی گئی
نہ کوئی انکوائری رپورٹ فراہم کی گئی
اور نہ انہیں مؤثر حقِ دفاع دیا گیا
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 10-اے اور 25 کی خلاف ورزی ہوئی، لہٰذا ایسی سزا شروع سے ہی غیر مؤثر تصور ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ تاحیات پابندی نہ صرف غیر متناسب تھی بلکہ AFP کے اپنے آئینی طریقہ کار میں بھی اس کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔
معاملے میں پنجاب ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن (PAA) کے انتخابات سے متعلق تنازع بھی شامل تھا، جنہیں AFP نے کالعدم قرار دیا تھا۔ تاہم ایڈجوڈی کیٹر نے واضح کیا کہ:
AFP کو اس معاملے پر کوئی اختیار نہیں، کیونکہ PAA ایک صوبائی ادارہ ہے اور اس کے انتخابات کی نگرانی پنجاب اسپورٹس بورڈ اور پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن کرتی ہے۔
الیکشن کی نگرانی کرنے والے حکام نے بھی کسی قسم کا اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔
فیصلے میں پابندی کے پاکستان کی ایلیٹ ایتھلیٹکس میں پڑنے والے منفی اثرات کو بھی اہمیت دی گئی۔ سلمان بٹ وہی کوچ ہیں جنہوں نے ارشد ندیم کو پیرس 2024 اولمپکس میں اُن کی تاریخی کارکردگی کے دوران تربیت فراہم کی۔
آرڈر میں کہا گیا کہ AFP کی کارروائیوں نے:
پاکستان کے ہائی پرفارمنس سسٹم کو نقصان پہنچایا
ایک اہم اولمپک امیدوار کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کی
ملک کی میڈل اُمیدوں کو متاثر کیا
اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا
کیس کے ریکارڈ میں ارشد ندیم کا تحریری بیان بھی شامل تھا، جس میں انہوں نے اپنے کوچ کی حمایت اور پابندی کی مخالفت کی۔
سماعت کے دوران پی ایس بی کے قانونی مشیر سیف الرحمٰن راؤ نے بورڈ کی نمائندگی کی، جبکہ AFP کی جانب سے صدر بریگیڈیئر (ر) وجاہت حسین اور وکیل عثمان اکرم پیش ہوئے۔ ایڈجوڈی کیٹر نے AFP کا یہ اعتراض بھی مسترد کر دیا کہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔
فیصلے کے بعد سلمان اقبال بٹ کے تمام پیشہ ورانہ حقوق، حیثیت اور مراعات مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔
