پشاور کا نام لیتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں قدیم بازار، روایتی مٹھائیاں اور تاریخ سے بھری گلیاں آتی ہیں — لیکن اگر غور کریں تو یہ شہر ایک ایسے سینمائی ورثے کا مالک بھی ہے جو برصغیر کی فلمی تاریخ میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ وقت بدل گیا، سینما گھر بند ہوتے گئے، مگر پشاور کی فلمی پہچان اب بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
وہ گھر جہاں اسٹار پیدا ہوئے
قصہ خوانی بازار کے قریب دو ایسی عمارتیں آج بھی کھڑی ہیں جو فلمی دنیا کے سنہری دور کی یاد دلاتی ہیں۔
پہلا گھر دلیپ کمار کا آبائی مکان ہے — وہی یوسف خان جنہوں نے بھارتی فلم انڈسٹری کو نئی پہچان دی۔ حکومت خیبر پختونخوا نے اس مکان کو تاریخی ورثہ قرار دے کر محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ قدم دور کپور حویلی ملتی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں راج کپور، ششی کپور اور ان کے خاندان نے اپنی ابتدائی زندگی گزاری۔ یہ عمارت آج بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ پشاور کبھی سچ میں برصغیر کے فلمی خاندانوں کی جنم بھومی تھا۔
نوجوان نسل کی بڑھتی دلچسپی
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مقامات اب بھی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں — خاص طور پر نوجوانوں کو۔
حالیہ دنوں میں 13 سالہ ملاکہ خان اپنے بھائی کے ساتھ دلیپ کمار کا گھر دیکھنے آئی۔ باہر کھڑی ہو کر اس نے کہا:
"یوں لگا جیسے کسی پرانی فلم کا منظر سامنے آ گیا ہو۔”
یہ احساس ظاہر کرتا ہے کہ ورثہ صرف ماضی نہیں — یہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
ورثہ باقی ہے، مگر عمارتیں تھکن کا شکار
اگرچہ پشاور نے کئی نامور فنکار پیدا کیے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شہر کے پرانے سینما گھر تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے سینما یا تو مکمل طور پر گرائے جا چکے ہیں یا نئی عمارتوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
ہر بند ہوتا سینما اس تاریخ کا ایک ورق کم کر دیتا ہے جسے واقعی محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
محفوظ کیوں رکھا جائے؟
یہ عمارتیں صرف ماضی کے شوق کی چیزیں نہیں۔
یہ ایک ایسی کہانی کا حصہ ہیں جس نے سرحدوں کے دونوں جانب کے سینما کو متاثر کیا — چاہے وہ بھارت ہو یا پاکستان۔
یہ ورثہ نوجوانوں کے لیے شناخت کا ذریعہ بن سکتا ہے، اور اگر مناسب دیکھ بھال کی جائے تو پشاور میں ثقافتی سیاحت اور فلم سے متعلق منصوبے بھی جنم لے سکتے ہیں۔
آگے بڑھنے کا راستہ
پشاور کی فلمی روح آج بھی زندہ ہے، لیکن اس کا جسم — یعنی عمارتیں اور سینما — وقت کے ساتھ کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
آنے والے برسوں میں یہ فیصلہ شہر اور حکومت کو کرنا ہوگا کہ آیا وہ اس ورثے کو صرف یادوں میں رکھنا چاہتے ہیں یا اسے مستقبل کے لیے محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔
فی الحال، ایک بات واضح ہے:
کہانی ختم نہیں ہوئی — ابھی بھی چل رہی ہے۔
