اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ عدالتی ذمہ داریاں اور ضابطے سرکاری شخصیات کے ساتھ نجی ملاقاتوں کی اجازت نہیں دیتے۔
عدالتی ذرائع کے مطابق ملاقات کی درخواست سرکاری ذرائع سے پہنچائی گئی تھی، تاہم چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ججز کو حکومتی عہدے داروں سے غیر رسمی روابط سے گریز کرنا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب متعلقہ صوبے سے جڑی متعدد معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہوں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فیصلہ ذاتی نوعیت کا نہیں بلکہ مکمل طور پر عدالتی ضابطہ اخلاق کے مطابق تھا۔ چیف جسٹس کا مؤقف ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر کوئی سوال نہیں اٹھنا چاہیے۔
اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
