سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’تیسری دنیا کے ممالک‘‘ سے آنے والے افراد کے لیے امریکا کے دروازے بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک عوامی خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کو اپنی سرحدیں مزید سخت کرنا ہوں گی تاکہ ملک کے اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز رکھی جا سکے۔
ٹرمپ کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی مبصرین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان امتیازی ہے اور امریکا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی پالیسیاں امریکا کو دنیا سے مزید دور کر سکتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں اپنی حمایت مضبوط کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے، کیونکہ امیگریشن ہمیشہ سے ان کے سیاسی بیانیے کا مرکزی حصہ رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ وفاقی سطح پر اس حوالے سے کوئی پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ کے بیان نے امریکا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ان برادریوں میں جہاں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد آباد ہے، جو سخت پابندیوں سے متاثر ہونے کا خدشہ محسوس کر رہی ہیں۔
