نومبر 30، 2025
ویب ڈیسک
بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مدارس پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے بعد مذہبی آزادی سے متعلق تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکام نے اسلامی تعلیمی و مذہبی اداروں پر سخت نگرانی کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پچھلے ایک ہفتے کے دوران سری نگر میں پولیس نے شہر بھر میں چھاپے مار کارروائیاں کیں۔ پولیس نے درجنوں مساجد اور مدارس میں داخل ہو کر مبینہ “دہشت گردی کی حمایت کرنے والے نیٹ ورک” کی تلاش کا دعویٰ کیا۔
ان کارروائیوں میں سرچ ٹیمیں، ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور نام نہاد آزاد گواہ شامل تھے۔ پولیس نے ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مواد کی تلاشی لی تاکہ مبینہ طور پر “شدت پسند” یا “دہشت گردی سے منسلک” سرگرمیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات انسدادِ دہشت گردی اور ڈی ریڈیکلائزیشن مہم کا حصہ ہیں، تاہم مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایسے کریک ڈاؤن سے مذہبی آزادی شدید متاثر ہو رہی ہے اور عوام میں خوف بڑھ رہا ہے۔
