سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں ’بابِ سلمان‘ کے نام سے نیا منصوبہ شروع کیا ہے جو زائرین کی سہولت، جدید انفراسٹرکچر اور وژن 2030 کے ترقیاتی اہداف کی عکاسی کرتا ہے۔
’بابِ سلمان‘ منصوبہ سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ قرار
مکہ مکرمہ میں سعودی عرب کی جانب سے ’بابِ سلمان‘ (Gate of Salman) کے نام سے ایک عظیم الشان منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے جو سعودی وژن 2030 کے ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ مکہ مکرمہ میں شہری ترقی، جدید انفراسٹرکچر اور زائرین کی سہولت کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔ یہ منصوبہ حرم شریف کے مرکزی داخلی دروازوں میں سے ایک ہوگا جو اسلامی ثقافت اور جدید تعمیرات کا حسین امتزاج پیش کرے گا۔
’بابِ سلمان‘ منصوبے کا مقصد ہر سال بڑھتی ہوئی حجاج و عمرہ زائرین کی تعداد کو مدِنظر رکھتے ہوئے آمد و رفت کو آسان بنانا ہے۔ اس میں جدید ٹرانسپورٹ سسٹم، سیکیورٹی سہولیات، اور کھلے عوامی مقامات شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ رش کے دوران بہتر نظم و نسق قائم رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ سعودی وژن 2030 کے تحت سیاحت کے فروغ اور معاشی تنوع کے ہدف کو آگے بڑھائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مکہ مکرمہ کو ایک اسمارٹ اور جدید شہر بنانے کے وژن کا بھی حصہ ہے۔
سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت کا ہدف ہے کہ وہ سالانہ تین کروڑ عمرہ زائرین کو خوش آمدید کہے۔ ’بابِ سلمان‘ منصوبہ اس وژن کے تحت مکہ مکرمہ کی توسیعی کوششوں میں مرکزی کردار ادا کرے گا اور حرم شریف تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔
حکام کے مطابق، منصوبے کی تکمیل کے بعد نہ صرف زائرین کو سہولت میسر آئے گی بلکہ یہ سعودی عرب کی عالمی سطح پر ایک جدید اور مہمان نواز اسلامی ملک کے طور پر شناخت کو مزید مضبوط کرے گا۔
