دسمبر 1، 2025
ویب ڈیسک
ایران کے سنی عالم ماموستہ جلال مرادی نے کہا ہے کہ قومی اتحاد نہ صرف ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ ایک قومی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے حالیہ خطاب کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد ایران کی مختلف قومی و مذہبی برادریوں کو دشمن کی سازشوں سے محفوظ رکھنے والی مضبوط ڈھال ہے۔
انہوں نے “جہادِ تبیین” میں علما کے تاریخی کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی حمایت اسلامی انقلاب کے اعلیٰ مقاصد کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ مرادی نے کہا کہ رہبر انقلاب کے بیانات کو ایک جامع اور حکیمانہ حکمتِ عملی کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔
مرادی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے اتحاد کے وژن کی بنیاد تین ستونوں پر ہے: مشترکہ اسلامی-ایرانی شناخت جو تمام طبقات کو ایک چھت کے نیچے جمع کرتی ہے، تمام شہریوں کے برابر حقوق جو ریاست پر اعتماد پیدا کرتے ہیں، اور دشمن کی ان سازشوں سے ہوشیاری جو ایرانیوں میں تقسیم ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ اپنے سب سے پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے علما کی تین بڑی ذمہ داریوں کی نشاندہی بھی کی: جدید اسلوب میں حقائق کی وضاحت، معاشرے کی میڈیا لٹریسی میں اضافہ، اور عوام میں امید اور مزاحمت کو مضبوط کرنا۔ مرادی نے کہا کہ جس طرح ایرانی عوام نے بارہ روزہ جنگ میں صہیونی دشمن کو شکست دی، اسی طرح وہ نفسیاتی جنگ میں بھی کامیاب ہوں گے۔
