نئی دہلی: کرکٹ کی دنیا میں گزشتہ ایک دہائی سے ایک ہی سوال گونجتا رہا — کیا بھارتی بیٹنگ آئیکون ویرات کوہلی کبھی سچن ٹنڈولکر کے 100 بین الاقوامی سنچریوں کے بے مثال ریکارڈ کو توڑ پائیں گے؟
جنوبی افریقہ کے خلاف لگاتار دو سنچریاں اس بحث کو ایک بار پھر زندہ ضرور کر گئی ہیں، کوہلی کی مجموعی سنچریوں کی تعداد 84 تک پہنچ چکی ہے، مگر حقیقت کا پہلو اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کوہلی اب صرف ایک فارمیٹ میں دکھائی دیتے ہیں۔ 37 برس کے کوہلی ٹیسٹ کرکٹ کو 30 سنچریوں اور ٹی ٹوئنٹی کو ایک سنچری کے ساتھ الوداع کہہ چکے ہیں، جب کہ ون ڈے فارمیٹ میں ان کے 53 سنچریوں کا ریکارڈ دنیا میں سب سے آگے ہے۔ تاہم سچن کے 100 سنچریوں تک پہنچنے کے لیے انہیں اب بھی مزید 16 سنچریاں درکار ہیں۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ ہدف خواب ضرور ہے، ناممکن نہیں لیکن انتہائی مشکل ضرور دکھائی دیتا ہے۔
یہ فرق محض سنچریوں کا نہیں بلکہ کیریئر کے حجم اور دورانیے کا بھی ہے۔ سچن ٹنڈولکر نے 24 سالہ شاندار اننگز میں 664 بین الاقوامی میچز کھیلے اور 40 برس کی عمر میں کرکٹ کو خیرباد کہا۔ دوسری جانب کوہلی نے 37 برس سے قبل ہی دو فارمیٹس چھوڑ دیے اور اب ان کی تمام توجہ صرف ون ڈے کرکٹ اور 2027 ورلڈ کپ پر مرکوز ہے۔
مداحوں کی خواہش اور جذبات اپنی جگہ، مگر فارمیٹس میں محدود شرکت اور وقت کی تیزی سے کم ہوتی دستیابی کو دیکھتے ہوئے کوہلی کا ریکارڈ بریکنگ سفر زیادہ کٹھن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ کرکٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کوہلی فٹنس اور فارم برقرار رکھتے ہوئے 2027 تک مسلسل کھیلتے رہے، تو سنچریوں میں اضافہ ممکن ہے، لیکن سچن کے مقام تک رسائی اب پہلے سے زیادہ دور محسوس ہوتی ہے
