پاکستان میں پانی کا بحران برقرار، 80 فیصد آبادی محفوظ پینے کے پانی سے محروم — اے ڈی بی
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی اب بھی محفوظ پینے کے پانی تک رسائی نہیں رکھتی، جو ملک میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ادارہ جاتی اصلاحات اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو ترجیح نہ دی گئی تو آنے والے سالوں میں پانی کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
چند علاقوں میں بہتری کے باوجود ملک میں مجموعی طور پر پانی کی فراہمی غیر مستحکم ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، کمزور انتظامی ڈھانچہ، اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال نے پانی کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جس کے باعث آلودگی میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
حکومت اور ترقیاتی اداروں کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی، فلٹریشن سسٹمز کی بہتری، اور بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن سے بعض علاقوں میں مثبت نتائج ملے ہیں۔ تاہم یہ بہتری ابھی ملک بھر میں یکساں طور پر نظر نہیں آتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو فوری طور پر مضبوط پانی کے ادارے، جدید انفراسٹرکچر، اور زیرِ زمین پانی کے استعمال پر سخت ضوابط نافذ کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ کروڑوں افراد پانی کی قلت، آلودگی اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرات سے دوچار رہیں گے۔
