معروف بھارتی انفلوئنسر اور سیاسی تجزیہ کار دھرو رٹھی نے فلم دھریندر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم سنیما کے نام پر نفرت کو فروغ دے رہی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
آن لائن جاری کیے گئے بیان میں دھرو رٹھی کا کہنا تھا کہ فلموں کی سماجی ذمہ داری ہوتی ہے اور انہیں تعصبات یا تقسیم کو بڑھانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق دھریندر ایک ایسی کہانی پیش کرتی ہے جو بظاہر تفریح کے انداز میں نفرت انگیز پیغام کو معمول بنا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنیما عوامی سوچ پر گہرا اثر رکھتا ہے، خاص طور پر نوجوانوں پر، اور اس قسم کے مواد سے معاشرے میں موجود خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے۔ دھرو رٹھی نے ناظرین پر زور دیا کہ وہ فلم کو تنقیدی نظر سے دیکھیں۔
ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ کچھ صارفین نے فلم سازی میں ذمہ داری پر سوال اٹھاتے ہوئے دھرو رٹھی کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے ان پر فلم کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا اور اظہارِ رائے کی آزادی کا دفاع کیا۔
تاحال فلم کے پروڈیوسرز یا ہدایتکار کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس تنازع نے ایک بار پھر سنیما کے سماجی اثرات اور تخلیقی آزادی کی حدود پر بحث کو تیز کر دیا ہے
