پاکستان میں فلم سازی کے میدان میں ایک نیا باب اس وقت کھلا جب ملک کی پہلی اے آئی سے تیار کردہ فلم دی نیکسٹ صلاح الدین کی باضابطہ نمائش کی گئی، جس نے فلم اور ٹیکنالوجی سے وابستہ حلقوں کی توجہ حاصل کرلی۔
یہ فلم اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کو کہانی، کرداروں اور بصری مناظر کی تخلیق سمیت مختلف مراحل میں استعمال کیا گیا۔ فلم کے تخلیق کاروں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پاکستانی سنیما میں کس طرح نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
خصوصی اسکریننگ کے دوران فلم نے حاضرین میں دلچسپی پیدا کی اور اے آئی کے ذریعے فلم سازی کے مستقبل پر بحث کو جنم دیا۔ بعض ناظرین نے اس جدت کو سراہا، جبکہ کچھ نے فن اور ٹیکنالوجی کے توازن پر سوالات اٹھائے۔
ماہرین کے مطابق دی نیکسٹ صلاح الدین پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے ایک علامتی قدم ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والے وقت میں کہانی سنانے کے انداز میں ٹیکنالوجی کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے.
