شہر قائد کے علاقے مائی کلاچی روڈ پر پھاٹک کے قریب مین ہول سے ملنے والی چار لاشوں کی شناخت ماں، بیٹی اور دو بیٹوں کے طور پر کر لی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ خاتون انیلہ 30 دسمبر کو اپنے بچوں کے ہمراہ گھر سے نکلی تھیں، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئی تھیں۔ 2 جنوری کی شب انیلہ اور اس کے تین بچوں کی لاشیں مائی کلاچی روڈ کے قریب ایک مین ہول سے برآمد ہوئیں۔
لاشوں کی شناخت مقتولہ کے بھائی نے پولیس سے رابطہ کر کے کی، جس کے بعد ڈاکس پولیس نے خواتین سمیت چار افراد کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت 38 سالہ انیلہ، 13 سالہ کشور زہرہ، 10 سالہ کونین علی اور 15 سالہ حسین علی ولد امیر مختار علی کے نام سے ہوئی ہے۔
قائم مقام ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کیماڑی اور ایس ایس پی ساؤتھ مہزوز علی نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ کھارادر کی رہائشی تھیں اور 31 دسمبر کی شب بیٹی اور دو بیٹوں کے ہمراہ گھر سے نکلیں، جس کے بعد لاپتہ ہو گئیں۔ ان کی لاشیں جمعے کی شب مائی کلاچی پھاٹک کے قریب مین ہول سے ملی تھیں۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شادی امیر مختار علی سے ہوئی تھی تاہم دونوں میں طلاق ہو چکی تھی۔ ایس ایچ او ڈاکس نند لعل نے بتایا کہ مقتولہ کے بھائی کی جانب سے پولیس سے رابطہ کرنے پر چاروں لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی۔
پولیس مقتولہ کے رہائشی علاقے اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مقتولہ کس وقت اور کس کے ساتھ گھر سے نکلی تھی۔ پولیس مقتولہ کے سابق شوہر سے بھی تفتیش کرے گی۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو منصور نامی شخص کے بارے میں بھی معلومات ملی ہیں جس کا مقتولہ سے مبینہ رابطہ تھا، تاہم اس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
ڈاکس پولیس نے لاشیں ملنے کا مقدمہ نمبر 9 برائے سال 2026، سب انسپکٹر محمد اظہر کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302/34 کے تحت درج کیا تھا۔
