مارچ 1، 2026
ویب ڈیسک
ایرانی ریاستی میڈیا نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیتاللہ علی خامنہای گذشتہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں، جنہیں ایک بڑے مشترکہ فوجی آپریشن کے حصہ کے طور پر انجام دیا گیا۔ امریکی صدر نے اس واقعے کو “انصاف” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران کے لوگوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ملک کا کنٹرول واپس حاصل کریں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ساتھ مل کر ایران میں مختلف اہم مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں خامنہای کا رہائشی کمپاؤنڈ بھی تباہ ہوا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اس حملے میں متعدد سینئر کمانڈرز اور رہنما بھی مارے گئے ہیں اور “علامات ہیں” کہ سپریم لیڈر اب زندہ نہیں ہیں۔
تاہم ایرانی سرکاری ذرائع اور سرکاری میڈیا نے ابتدائی طور پر ان دعووں کی تردید کی اور کہا کہ خامنہای اب بھی صحت مند ہیں اور اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، جس سے معلومات میں تضاد سامنے آیا ہے۔ سعودی خبر رساں اداروں اور رائٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ایران نے بیرونی الزامات کو ذہنی جنگ قرار دیا ہے۔
اس واقعے نے خطے میں کشیدگی کو ناقابل یقین حد تک بڑھا دیا ہے، جبکہ ایران نے جوابی حملوں میں میزائل اور ڈرون بھی داغے ہیں۔ عالمی رہنما اور تنظیمیں بھی صورتحال پر غور کر رہی ہیں، کیونکہ خامنہای کے جانے سے ایران کی قیادت میں ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے ہوں گے۔
