پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کے لیے تیار ہے، اگرچہ اس سفارتی عمل کے مستقبل پر اب بھی غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف یہ ہے کہ رابطے کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا، سہولت کاری کی پیشکش بدستور موجود ہے، مگر فی الحال کسی نئی ملاقات کی تاریخ طے نہیں ہوئی۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان حالیہ ہفتوں میں ایک خاموش ثالث سے ایک نمایاں میزبان کے طور پر سامنے آیا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل بالمشافہ بات چیت ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ دور کسی حتمی معاہدے پر ختم نہیں ہوا، لیکن پاکستانی حکام نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ جنگ بندی اور سفارتی عمل کو برقرار رکھا جائے اور بات چیت کا سلسلہ ٹوٹنے نہ دیا جائے۔
تاہم اب صورت حال پھر پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز کی مبینہ امریکی تحویل کے بعد کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا، جس نے مذاکرات کے اگلے مرحلے پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ ایرانی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ حالات میں نئے دور کے انعقاد سے متعلق کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی محسوس ہو رہا ہے کہ تہران نے دروازہ مکمل طور پر بند بھی نہیں کیا۔
پاکستان نے اس تمام معاملے میں نسبتاً محتاط اور متوازن لہجہ اختیار کیا ہے۔ سرکاری سطح پر بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، رابطوں کی نزاکت کو سمجھا جائے، اور میڈیا میں ایسی توقعات نہ باندھی جائیں جو زمینی حقیقت سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔ یہی احتیاط دراصل اسلام آباد کی سفارتی حکمت عملی کا حصہ نظر آتی ہے۔
وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار محض رسمی میزبانی تک محدود نہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سمندری گزرگاہوں کی حساسیت، اور امریکا ایران تعلقات کی طویل بداعتمادی نے اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ ایسے میں پاکستان خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو دونوں فریقوں کو کم از کم ایک میز پر لا سکتا ہے، چاہے کوئی فوری پیش رفت ممکن نہ بھی ہو۔
فی الحال اصل خبر کسی طے شدہ ملاقات سے زیادہ پاکستان کے اس مؤقف میں ہے کہ وہ مذاکراتی عمل سے دستبردار نہیں ہو رہا۔ اسلام آباد اب بھی کہہ رہا ہے کہ بات چیت ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، جگہ بھی موجود ہے اور آمادگی بھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران اس کھلے دروازے سے گزرنے کے لیے کب اور کس حد تک تیار ہوتے ہیں۔
