کپڑوں کی ری سائیکلنگ کچھ فائدہ ضرور دیتی ہے۔ اس سے کچھ ٹیکسٹائل کچرا لینڈفل میں جانے سے بچ جاتا ہے، بعض ملبوسات سے مواد دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اور استعمال شدہ کپڑوں کی عمر دوبارہ استعمال کے ذریعے بڑھائی جا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر پرانے کپڑے بڑے پیمانے پر دوبارہ نئے کپڑوں میں تبدیل نہیں ہوتے۔ جو کپڑے جمع کیے جاتے ہیں، ان میں سے کافی حصہ استعمال شدہ کپڑوں کی مارکیٹ میں جاتا ہے، کچھ برآمد ہو جاتا ہے، کچھ کم معیار کی مصنوعات جیسے صفائی کے کپڑے یا انسولیشن میں بدل جاتا ہے، اور باقی جلایا یا دفن کر دیا جاتا ہے۔ امریکی ماحولیاتی ادارے ای پی اے کے مطابق اس کے تازہ ترین حوالہ جاتی اعداد و شمار میں کپڑوں اور جوتوں کی ری سائیکلنگ کی شرح تقریباً 13 فیصد رہی، جبکہ ٹیکسٹائل اب بھی بڑی مقدار میں لینڈفل اور جلانے والے نظام میں جا رہے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آج کے کپڑے ری سائیکل کرنا آسان نہیں۔ بہت سے ملبوسات ملی جلی فائبرز سے بنتے ہیں، جیسے کاٹن اور پالئیسٹر کا امتزاج، ساتھ میں رنگ، کیمیکل کوٹنگ، الاسٹین، زِپ، بٹن اور دوسری اشیا بھی لگی ہوتی ہیں۔ اس سے چھانٹی اور مواد کی بازیافت مشکل اور مہنگی ہو جاتی ہے۔ مکینیکل ری سائیکلنگ کچھ صاف اور سادہ مواد پر تو کام کر سکتی ہے، مگر اس میں فائبرز چھوٹے ہو جاتے ہیں اور معیار گر جاتا ہے۔ نئی کیمیکل یا ایڈوانسڈ ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز امید ضرور دلاتی ہیں، لیکن ابھی وہ اتنے بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں کہ فیشن انڈسٹری کے پیدا کردہ وسیع ٹیکسٹائل کچرے کو سنبھال سکیں۔
اسی لیے اس بحث میں ایک اہم عدد بار بار سامنے آتا ہے: ایلن میک آرتھر فاؤنڈیشن کے مطابق ایک فیصد سے بھی کم پرانے کپڑے دوبارہ نئے کپڑوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کپڑے جمع کرنے والے ڈبے یا واپس لینے کے پروگرام بے کار ہیں۔ مطلب صرف یہ ہے کہ موجودہ نظام ابھی بند چکر والے نظام کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ یعنی جو کپڑے جمع کیے جاتے ہیں، وہ اکثر فضلے کے نظام میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں، مگر بڑے پیمانے پر واقعی گردشی فیشن نظام قائم نہیں ہو پاتا۔
یورپ اس نظام کو بہتر سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق 2025 سے یورپی ممالک کے لیے استعمال شدہ ٹیکسٹائل کی علیحدہ کلیکشن ضروری ہے۔ لیکن ایجنسی نے ساتھ یہ بھی خبردار کیا ہے کہ صرف زیادہ کپڑے جمع کرنا کافی نہیں، اگر اس کا نتیجہ صرف زیادہ برآمدات، جلانے یا لینڈفل کی صورت میں نکلے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ صرف کلیکشن بڑھنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، جب تک چھانٹی، دوبارہ استعمال اور حقیقی ری سائیکلنگ کی صلاحیت بھی ساتھ نہ بڑھے۔
بہتری کے آثار ضرور موجود ہیں۔ کچھ صنعتی منصوبوں اور نئی چھانٹی کی ٹیکنالوجیوں، خاص طور پر اے آئی سے چلنے والے نظاموں، نے ریشوں کی شناخت اور قابلِ بازیافت مواد کو الگ کرنے کی صلاحیت بہتر بنائی ہے۔ حالیہ رپورٹس اور بعض آزمائشی منصوبے بتاتے ہیں کہ خودکار نظام کے ذریعے ایسے مواد کی شرح کم کی جا سکتی ہے جو دوبارہ قابلِ استعمال یا قابلِ بازیافت نہیں ہوتا، اور اس سے مواد کی بازیافت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن فی الحال یہ ابتدائی یا محدود مثالیں ہیں، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پورا نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔