اسلام آباد، 22 اپریل 2026: کئی روز کے سخت حفاظتی اقدامات کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کے زیادہ تر راستے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں، جس سے روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، دارالحکومت کا ریڈ زون — جس میں پارلیمنٹ، سرکاری دفاتر اور اہم سفارت خانے شامل ہیں — اب بھی مکمل طور پر بند ہے اور صرف مجاز اہلکاروں کو داخلے کی اجازت ہے۔
یہ بندشیں اس ہفتے کے آغاز میں اعلیٰ سطح کی سفارتی مصروفیات سے قبل عائد کی گئی تھیں۔ ریڈ زون کے گرد پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں اور غیر مجاز افراد کی داخلے کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ یہ علاقے حساس سفارتی سرگرمیوں کے اختتام تک عوام کے لیے بند رہیں گے۔
ریڈ زون کے علاوہ دیگر علاقوں میں زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔ بڑے راستوں پر ٹریفک بحال ہو گئی ہے، مارکیٹس کھل گئی ہیں اور کچھ پبلک ٹرانسپورٹ سروسز بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ اسلام آباد میں 26 نمبر چنگی بس ٹرمینل دوبارہ مسافروں کے لیے کھل گیا ہے، جبکہ راولپنڈی میں پشاور روڈ پر بسیں چل رہی ہیں۔ تاہم، پیر وادھائی اور فیض آباد کے بس اسٹینڈز اب بھی بند ہیں اور سامان کی نقل و حمل محدود ہے۔
شہریوں اور تاجروں کے ردعمل مختلف ہیں۔ بہت سے لوگ حکومت کی حفاظتی اقدامات کی تعریف کرتے ہیں، لیکن کچھ نے لمبی سڑکوں، بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ لاگت اور عارضی کاروباری نقصان کی شکایت بھی کی ہے۔
حکام کی یہ احتیاطیں بین الاقوامی وفود کے زیرِ غور مذاکرات کے پیشِ نظر ہیں، جن کی آمد کا شیڈول دارالحکومت میں طے تھا۔ اگرچہ شیڈول میں تاخیر ہوئی ہے، حکومت عوامی سلامتی اور سفارتی ضروریات دونوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
ریڈ زون بند رہنے کے پیشِ نظر، شہریوں سے درخواست ہے کہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں اور سرکاری اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
