پشاور زلمی نے پاکستان سپر لیگ 2026 میں اپنی شاندار فارم برقرار رکھتے ہوئے کراچی کنگز کو سات وکٹوں سے شکست دے دی اور یوں ٹیم نے مسلسل ساتویں کامیابی اپنے نام کر لی۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں زلمی نے 18.5 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 186 رنز بنا کر میچ ختم کر دیا۔ کُسل مینڈس 43 گیندوں پر 80 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ فرحان یوسف نے 36 گیندوں پر ناقابلِ شکست 58 رنز کی اننگز کھیل کر کامیابی پکی کر دی۔
کراچی کنگز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 9 وکٹوں پر 182 رنز بنائے۔ جیسن رائے نے سب سے نمایاں اننگز کھیلی اور 51 گیندوں پر 85 رنز اسکور کیے، جس میں 11 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ اعظم خان نے بھی 19 گیندوں پر 35 رنز بنا کر ٹیم کو آخری اوورز میں سہارا دیا، مگر اختتامی مرحلے میں وکٹیں گرنے کے باعث کراچی اس مجموعے کو مزید بڑا نہ بنا سکی۔
پشاور زلمی کی جانب سے نوجوان فاسٹ بولر علی رضا نے میچ کا رخ موڑ دیا۔ انہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں اور اسی دوران پی ایس ایل میں پاکستانی کھلاڑی کی حیثیت سے کم عمر ترین ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ کراچی کی اننگز کے آخری حصے میں یہی اسپیل فیصلہ کن ثابت ہوا، کیونکہ ایک وقت پر لگ رہا تھا کہ کنگز 190 سے اوپر جا سکتی ہے۔
ہدف کے تعاقب میں زلمی کا آغاز مکمل طور پر بے داغ نہیں تھا۔ جیمز ونس 16، بابر اعظم 25 اور ایرن ہارڈی 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو اسکور 67 پر 3 وکٹیں تھا۔ یہاں سے کراچی کو واپسی کا موقع مل سکتا تھا، لیکن کُسل مینڈس اور فرحان یوسف نے نہ صرف اننگز سنبھالی بلکہ میچ کو کراچی کی پہنچ سے بھی دور کر دیا۔ دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 119 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کی، جو پشاور زلمی کی ٹی20 کرکٹ میں اس وکٹ کے لیے نئی ریکارڈ شراکت بھی بنی۔
مینڈس ایک بار پھر زلمی کی بیٹنگ کے محور دکھائی دیے۔ انہوں نے دباؤ کے لمحے میں اننگز کو سنبھالا، گیپ بھی تلاش کیے اور ضرورت پڑنے پر بڑی شاٹس بھی کھیلیں۔ دوسری طرف فرحان یوسف نے نسبتاً پرسکون انداز اپنایا، مگر ان کی اننگز میں روانی تھی اور یہی چیز زلمی کے تعاقب کو آسان بناتی گئی۔ ان کی نصف سنچری 35 گیندوں پر مکمل ہوئی، جو ان کے لیے ایک اہم اور بااعتماد اننگز ثابت ہوئی۔
یہ نتیجہ صرف ایک اور جیت نہیں بلکہ پوائنٹس ٹیبل کے تناظر میں بھی بہت معنی رکھتا ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق پشاور زلمی اس کامیابی کے بعد بدستور سرفہرست رہی، جبکہ کراچی کنگز کے لیے یہ شکست دباؤ میں مزید اضافہ کرنے والی ثابت ہوئی۔
کراچی کے لیے افسوس کی بات یہ رہی کہ جیسن رائے کی عمدہ اننگز بے اثر ہو گئی۔ ان کے پاس ایک ایسا مجموعہ تھا جسے دفاع کیا جا سکتا تھا، لیکن درمیانی اور آخری اوورز میں زلمی کے بلے بازوں نے خاص طور پر مینڈس اور فرحان نے بہت کم غلطی کی۔ سچ یہ ہے کہ پشاور اس وقت صرف جیت نہیں رہی، وہ ایک ایسی ٹیم لگ رہی ہے جو ٹورنامنٹ پر گرفت مضبوط کرتی جا رہی ہے۔
