سرفراز احمد تنقید کرنے والوں کی باتوں کو نظر انداز کر کے اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ سابق کپتان نے حالیہ میڈیا گفتگو میں اپنی قیادت اور ٹیم میں جگہ پر اٹھنے والے سوالات کو مسترد کرتے ہوئے اسے کھیل کا حصہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ کے بے رحم ماحول میں دو دہائیوں سے موجود سرفراز جانتے ہیں کہ یہاں بیانیہ کتنی تیزی سے بدلتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے یہ سب پہلے بھی سنا ہے۔ اگر آپ ہر تبصرے کا جواب دینے لگیں تو آپ کو کرکٹ کھیلنے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔”
سرفراز کا یہ ردعمل ان کی حکمت عملی میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دفاعی پوزیشن لینے کے بجائے، وہ اب ایک مینٹور یا تجربہ کار کھلاڑی کے طور پر خود کو پیش کر رہے ہیں۔ ٹیم اس وقت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں تجربہ کار کھلاڑیوں کا ساتھ نوجوان ٹیلنٹ کو درکار ہے۔ سرفراز کا ماننا ہے کہ ان کی اصل قدر ان ہیڈلائنز میں نہیں، بلکہ ڈریسنگ روم میں نوجوان کھلاڑیوں کو ملنے والی رہنمائی میں ہے۔
ناقدین ان کے حالیہ اسٹرائیک ریٹ اور فیصلوں کو نشانہ بنا کر ٹیم میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سرفراز کا دور اب ڈھل چکا ہے اور ٹیم کو اب ایک نئے اور جارحانہ انداز کی ضرورت ہے۔ تاہم، ٹیم انتظامیہ اب بھی ان کے تجربے پر بھروسہ کر رہی ہے، خاص طور پر دباؤ کے لمحات میں جہاں ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے والا کھلاڑی ناگزیر ہوتا ہے۔
2017 کی چیمپئنز ٹرافی کی فتح اور موجودہ دور کے درمیان کا تضاد واضح ہے۔ جو شائقین کبھی ان کے حق میں نعرے لگاتے تھے، اب سوشل میڈیا پر ان کی ریٹائرمنٹ پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈز کے لیے کوئی نئی بات نہیں، لیکن سرفراز اس شور سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔
وہ آنے والی سیریز پر مرکوز ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ ان کا بنیادی مقصد ٹیم کے لیے رنز بنانا ہے، چاہے وہ کپتان کے طور پر ہوں یا ایک سینئر کھلاڑی کے طور پر۔
سرفراز کا یہ سفر ان کے کیریئر کا آخری باب ہے یا کسی نئی واپسی کا آغاز، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال، وہ صرف اگلی گیند پر توجہ دے رہے ہیں۔ کرکٹ جیسے غیر یقینی کھیل میں، ان کی خاموشی ہی شاید ان کا سب سے بڑا جواب ہے۔
