پاکستان میں چھوٹے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے، اور اس بار یہ محض آئینی یا نظری بحث نہیں لگتی بلکہ ایک حقیقی سیاسی سوال بنتی جا رہی ہے۔ ڈان میں 24 اپریل 2026 کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا کہ پاکستان کا موجودہ چار صوبائی ڈھانچہ نہ تو آبادی کے دباؤ سے ہم آہنگ ہے، نہ انتظامی ضروریات سے، اور نہ ہی علاقائی محرومیوں کا مناسب جواب دیتا ہے۔
اس بحث کا بنیادی نکتہ سادہ ہے: اختیار بہت زیادہ مرتکز ہے، اور اس کا بڑا حصہ ان مراکز میں جمع ہے جو ان علاقوں سے دور ہیں جہاں لوگوں کو سب سے زیادہ ریاستی توجہ درکار ہے۔ چھوٹے صوبوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دوسرے محروم خطے برسوں سے یہ شکایت کرتے آئے ہیں کہ ان کے مسائل، ترقیاتی ترجیحات اور نمائندگی کے سوالات صوبائی دارالحکومتوں میں بیٹھ کر طے کیے جاتے ہیں، جب کہ زمینی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔
حامی حلقوں کے مطابق نئے اور چھوٹے صوبے بننے سے انتظامیہ عوام کے قریب آئے گی، سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی اور طاقت چند بااثر سیاسی و انتظامی گروہوں تک محدود نہیں رہے گی۔ ان کے خیال میں اصل مسئلہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ یعنی سوال یہ نہیں کہ نقشہ بدلا جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اختیار کس کے پاس رہے اور کس حد تک نیچے منتقل ہو۔
یہ مؤقف اب صرف کالموں اور علاقائی نعروں تک محدود نہیں رہا۔ حالیہ مہینوں میں بعض سیاسی رہنماؤں نے بھی کھل کر نئے صوبوں کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اب قومی سطح کی بحث بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی خواہش اور آئینی حقیقت آمنے سامنے آ جاتی ہیں۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اپنی کل رکنیت کے دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری نہ دے۔ دوسرے لفظوں میں، کوئی بھی نیا صوبہ صرف وفاقی خواہش یا پارلیمانی تقریروں سے وجود میں نہیں آ سکتا۔ جس صوبے کی تقسیم یا حدود میں تبدیلی مطلوب ہو، اسی کی اسمبلی کو اس پر بھاری اکثریت سے رضامند ہونا ہوگا۔ یہی وہ آئینی رکاوٹ ہے جس نے ماضی میں کئی تجاویز کو عملی شکل اختیار کرنے سے روکے رکھا۔
جنوبی پنجاب کا معاملہ اس کی واضح مثال ہے۔ اس خطے کے لیے الگ صوبے کا مطالبہ برسوں سے موجود ہے، مگر جب بھی معاملہ سنجیدہ مرحلے میں داخل ہوتا ہے، سیاسی مفادات، انتظامی پیچیدگیاں اور جماعتی حساب کتاب اس کی راہ میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ نیا صوبہ بنے یا نہ بنے، بلکہ یہ بھی طے کرنا پڑتا ہے کہ سرحدیں کہاں ہوں گی، دارالحکومت کون سا ہوگا، وسائل کیسے تقسیم ہوں گے، سرکاری ملازمین اور اداروں کی تنظیمِ نو کس طرح ہوگی، اور نئی نمائندگی کا فارمولا کیا ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کی بحث بظاہر آسان مگر عملی طور پر نہایت پیچیدہ ہے۔ سیاست دان اس خیال کو عوامی مقبولیت کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں، لیکن ریاستی ڈھانچے میں اس تبدیلی کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ پولیس، بیوروکریسی، تعلیم، صحت، ٹیکس، پانی، ترقیاتی بجٹ، اسمبلی نشستیں، مقامی حکومتیں — سب کچھ دوبارہ ترتیب دینا پڑتا ہے۔
اس کے باوجود یہ مطالبہ بار بار اس لیے واپس آتا ہے کہ اس کے پیچھے موجود شکایات ختم نہیں ہوئیں۔ محروم علاقوں میں یہ مطالبہ محض شناخت یا لسانی سیاست کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ اسے ترقی، رسائی اور وقار کے سوال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کے لیے الگ صوبہ اکثر ایک علامت بن جاتا ہے — اس امید کی علامت کہ شاید اب فیصلے ان کے قریب ہوں گے، سڑکیں بہتر ہوں گی، ہسپتال بنیں گے، نوکریوں کے مواقع بڑھیں گے اور ان کی آواز واقعی سنی جائے گی۔
اس بحث کا ایک بڑا پہلو وفاقی نظام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ اختیارات تو ملے، لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ کئی معاملات میں اختیار اسلام آباد سے نکل کر صوبائی دارالحکومتوں تک تو پہنچا، مگر صوبوں کے اندر نچلی سطح تک مؤثر طور پر منتقل نہ ہو سکا۔ یہی وہ خلا ہے جسے چھوٹے صوبوں کے حامی نمایاں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اختیارات صرف ایک بڑے مرکز سے دوسرے بڑے مرکز تک منتقل ہوں، تو عام آدمی کی زندگی میں بہت کم فرق پڑتا ہے۔
فی الحال حقیقت یہ ہے کہ نہ کوئی قومی اتفاقِ رائے موجود ہے، نہ آئینی راستہ آسان ہے، اور نہ ہی سیاسی جماعتیں اس معاملے پر ایک صفحے پر دکھائی دیتی ہیں۔ مگر 2025 اور 2026 میں اس موضوع پر دوبارہ بڑھتی ہوئی گفتگو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بحث ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان کا نقشہ شاید فوری طور پر تبدیل نہ ہو، لیکن اس مطالبے کے پیچھے جو احساسِ محرومی، عدم نمائندگی اور طاقت کے ارتکاز کا مسئلہ ہے، وہ بہت حقیقی ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے: کیا پاکستان کا موجودہ صوبائی ڈھانچہ واقعی اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کر رہا ہے، یا وقت آ گیا ہے کہ ریاست خود سے یہ مشکل مگر ضروری سوال پوچھے کہ اختیار کو زیادہ منصفانہ، زیادہ مؤثر اور زیادہ مقامی کیسے بنایا جائے؟
