سنجو سیمسن نے آئی پی ایل 2026 میں ایک زبردست اننگز کھیل کر اورنج کیپ کی دوڑ کو اچانک دلچسپ بنا دیا۔ انہوں نے ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں ممبئی انڈینز کے خلاف 54 گیندوں پر ناقابلِ شکست 101 رنز بنائے، جس کی بدولت چنئی سپر کنگز نے 103 رنز سے بڑی فتح حاصل کی۔ اسی میچ کے بعد سیمسن اورنج کیپ ٹیبل میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئے، جبکہ چنئی کے ہی گیند باز انشول کمبوج ایک بار پھر پرپل کیپ کے حقدار بن گئے۔
یہ میچ آخر تک یک طرفہ دکھائی دیا، حالانکہ آغاز میں ایسا تاثر نہیں تھا۔ چنئی سپر کنگز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 6 وکٹوں پر 207 رنز بنائے۔ اس مجموعے کی بنیاد سیمسن کی شاندار سنچری تھی، جو اس سیزن میں ان کی دوسری سنچری بھی بنی۔ جواب میں ممبئی انڈینز کی بیٹنگ لائن کبھی سنبھل نہ سکی اور پوری ٹیم 19 اوورز میں صرف 104 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
چنئی کی جیت میں صرف سیمسن ہی نمایاں نہیں تھے۔ اکیل حسین نے درمیانی اوورز میں تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 17 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ نور احمد نے بھی دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔ لیکن میچ کے بعد سب سے زیادہ توجہ دو انفرادی مقابلوں پر رہی، ایک اورنج کیپ کی دوڑ اور دوسرا پرپل کیپ کی جنگ۔
سیمسن اب 7 اننگز میں 293 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ ان سے آگے صرف سن رائزرس حیدرآباد کے ابھیشیک شرما اور ہینرچ کلاسن موجود ہیں۔ ابھیشیک 323 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ کلاسن 320 رنز بنا چکے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سیمسن کی یہ اننگز صرف ایک میچ وننگ پرفارمنس نہیں تھی بلکہ ٹورنامنٹ کے سب سے اہم انفرادی ایوارڈز میں سے ایک کی دوڑ میں ان کا مضبوط اعلان بھی تھی۔
دوسری طرف انشول کمبوج نے اگرچہ اس میچ میں صرف ایک وکٹ حاصل کی، مگر وہی وکٹ انہیں دوبارہ پرپل کیپ کے ٹاپ پر لے گئی۔ اب ان کے 7 میچوں میں 14 وکٹیں ہو چکی ہیں۔ وہ اس فہرست میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے پرنس یادو سے آگے نکل گئے ہیں، جبکہ ایشن مالنگا اور پرسدھ کرشنا بھی زیادہ پیچھے نہیں۔
چنئی سپر کنگز کے لیے یہ فتح صرف دو کھلاڑیوں کے ذاتی اعزازات تک محدود نہیں رہی۔ اس کامیابی کے بعد ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر آ گئی ہے، جبکہ ممبئی انڈینز مزید دباؤ میں چلے گئے۔ یوں یہ رات چنئی کے لیے ہر لحاظ سے فائدہ مند ثابت ہوئی، ٹیم کو دو اہم پوائنٹس ملے، ایک بڑی جیت ملی، اور ساتھ ہی ان کے ایک بلے باز اور ایک بولر نے ٹورنامنٹ کی دو بڑی ریسز میں نمایاں برتری حاصل کر لی۔
آئی پی ایل کے ایسے مرحلے پر، جب لیگ راؤنڈ آہستہ آہستہ فیصلہ کن رخ اختیار کرتا ہے، اس قسم کی کارکردگیاں صرف اعداد و شمار نہیں ہوتیں۔ یہ مہم کا رخ بھی بدل دیتی ہیں۔ سیمسن اب صرف اچھی فارم میں موجود بیٹر نہیں رہے، وہ اورنج کیپ کے حقیقی دعوے دار بن چکے ہیں۔ اور کمبوج نے ثابت کیا ہے کہ مسلسل اچھی بولنگ آخرکار انہیں دوبارہ سب سے اوپر لے آئی ہے۔
